سندھ میں سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ
کراچی: حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
اگرچہ حکام عموماً شہر کے مختلف علاقوں سے نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے منظم کباڑیوں کو کچرا جلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، تاہم یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض سرکاری اہلکار بھی کچرا جلانے یا نالوں میں پھینکنے کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات بچتے ہیں اور رقم خردبرد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق کچرا جلانے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ( ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ اس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات، ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی، ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد رابطہ کرنے پر میئر مرتضیٰ وہاب جو ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے چیئرمین بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کچرا جلانے کا عمل زیادہ تر نجی طور پر کچرا جمع کرنے والے کرتے ہیں، جو یا تو اسے آگ لگا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جانے چاہئیں کیونکہ اس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ایم ڈی نے شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے سے وابستگی سے قطع نظر، کچرا جلانے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں، ان کے پاس مناسب افرادی قوت اور مشینری ہونی چاہیے جبکہ ٹریکر سے لیس گاڑیاں چوبیس گھنٹے کام کریں۔
انہوں نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ نائب چیئرمینز اور یونین کونسلز کو بااختیار بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جبکہ یو سیز اور ٹاؤنز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ لینڈ فل سائٹس تک نہیں پہنچ پاتا۔
حال ہی میں ایم ڈی طارق علی نظامانی نے بتایا تھا کہ کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زائد سالڈ اور میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف وسطی ضلع میں روزانہ 3 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے، جو شہر کے سات اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
تاہم اعداد و شمار کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس تک پہنچ پاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کئی سوسائٹیز اور چار دیواری رہائشی منصوبوں میں نجی کچرا جمع کرنے والے سرگرم ہیں، جو کچرا اکٹھا کر کے قابلِ فروخت اشیا الگ کر لیتے ہیں اور باقی ماندہ کچرا یا تو جلا دیتے ہیں یا نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔
مشرقی ضلع کے ایک ٹاؤن چیئرمین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس کے باعث صفائی کی سروسز مؤثر انداز میں ادا نہیں ہورہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں مقامی پولیس بھی شامل ہوتی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹاؤن انتظامیہ، ایس ایس ڈبلیو ایم بی اور پولیس کے درمیان رابطہ کون قائم کرے گا، ان کے مطابق اس کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، جو بدقسمتی سے مقامی حکومت کے نظام میں موجود نہیں۔











لائیو ٹی وی