پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے الزام مسترد کردیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنماؤں سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر گوہر علی خان نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے جڑوں سے ختم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت ہمیں دہشت گردی پر ایک واحد موقف اور بیانیہ کی ضرورت ہے، پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحدیں نہیں ہوتیں۔ وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ہماری مساجد، عیدگاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور ہم ہر ایک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پوچھنا ’نامناسب اور خطرناک‘ ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد کیوں نشانہ نہیں بنا رہے، انہوں نے کہا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملے کی زد میں آتا ہے تو پورے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
گوہر علی خان نے کہا کہ ’اگر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے تو الزامات لگانے کے لیے ٹویٹر اور پریس کانفرنسوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے، اپنے دلائل متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کی پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور اس مقصد کے لیے 40 ارب روپے بھی خرچ کیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اپنے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی ہوا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں قصوروار ٹھہرانا، پریس کانفرنسیں کرنا اور ہمیں نشانہ بنانا خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے، جو اس وقت قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ اگلی بار ہمیں ایسی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارے خلاف بھی کوئی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔‘
سلمان اکرم راجا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزامات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ نہیں ہیں۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’صرف ایک بے وقوف ہی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھ سکتا ہے۔‘
فوجی آپریشنز کے معاملے پر پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور معصوم لوگوں کی نقل مکانی اور شہادت کو قبول نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’ایکشن پلان طے کرنے میں تعاون کے ساتھ کام کرنے‘ کی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں امن جرگہ منعقد کیا، جہاں ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں، علماء اور دانشوروں نے متفقہ طور پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی غلط ہے۔‘
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو عوام اور ریاستی ادارے کے درمیان ’خلیج‘ کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی ایک قومی مقصد کے لیے عوام اور اداروں کو اکٹھا کر سکتی ہے۔‘
سلمان اکرم راجا نے یہ موقف بھی دہرایا کہ ’کوئی بھی مذاکرات چاہے وہ دہشت گردی کے بارے میں ہوں یا کسی اور معاملے پر، عمران خان کو باہر رکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔‘
اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ مرکز جو بھی پالیسی لائے وہ صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے بنائی جانی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی پالیسی مسلسل ناکام ہو رہی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس پر نظرثانی کریں، اس کا دوبارہ جائزہ لیں اور ایسی پالیسی اپنائیں جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے سکے۔‘
انہوں نے مرکز پر تنقید کی کہ وہ ’خیبر پختونخوا کو اس کے عوام کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔‘
اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ملک کی سب سے بڑی جماعت‘ ہے اور الزام لگایا کہ اسے ’کچلا‘ جا رہا ہے۔
اسد قیصر نے مزید کہا: ’ہمیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے اور اس کے اوپر ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘
اسد قیصر نے گرینڈ جرگے کے بعد جاری ہونے والا ایک بیان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہیں ہمارا بنیادی موقف ہے،‘ انہوں نے پڑھ کر سنایا: ’امن جرگہ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘
اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔‘
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے یہ پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی ایک طویل پریس کانفرنس کے ایک دن بعد کی ہے، جس میں 2021 میں پاکستان میں برسرِ اقتدار ایک سیاسی جماعت پرجو بظاہر پی ٹی آئی کی طرف اشارہ تھا ’اندرونی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔












لائیو ٹی وی