معروف اسکالرداؤد رہبر امریکہ میں انتقال کرگئے

08 اکتوبر 2013

ای میل

08-10-13-Scholar, writer Daud Rahbar passes away in US 670
مصنف، شاعر، موسیقار اور امریکی یونیورسٹی میں پروفیسر داؤد رہبر، بوسٹن یونیورسٹی میں 23 برس تک تقابلی مذاہب پڑھاتے رہے۔ —. یوٹیوب کی ایک وڈیو سے لی گئی تصویر

کراچی: معروف اسکالر، مصنف، شاعر، موسیقار اور مفکر داؤد رہبر بروز ہفتہ سات اکتوبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ڈیئرفیلڈ بیچ کے ایک نرسنگ ہوم میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 86 برس کی تھی، انہوں نے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

داؤد رہبر 1926ء میں پیدا ہوئے اور ان کی ابتدائی عمر لاہور میں گزری، جہاں محض آٹھ سال کی عمر میں ان کا رجحان شاعری کی جانب ہوگیا تھا۔

ان کے والد محمد اقبال، جن کا نام علامہ اقبال کے نام رکھا گیا، بھی ایک اسکالر تھے اور فارسی اور عربی ادب پڑھایا کرتے تھے۔ داؤد رہبر نے گورنمٹ کالج لاہور سے عربی ادب میں اپنی ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ، اس کے بعد اوریئنٹل کالج میں عربی ادب کی تدریس کرنے لگے۔

1949ء میں وہ پاکستان چھوڑ کر کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں کینیڈا اور ترکی کی معروف یونیورسٹیوں میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ ان کے اندر شاعری اور موسیقی کے لیے جو لگاؤ موجود تھا وہ کبھی ختم نہ ہوسکا، اسی نے انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا مطالعہ کرنے پر مجبور کیا۔

1968ء میں وہ بوسٹن یونیورسٹی کے فیکلٹی کے رکن بن گئے جہاں وہ 23 برس تک تقابلی مذاہب پڑھاتے رہے۔ 1999ء میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ مستقل قیام کے لیے فلوریڈا چلے آئے۔

داؤد رہبر نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں تحریر کیں۔ جن میں سلام و پیام (خطوط)، پراگندہ طبع لوگ، کلیات (ان کی نظموں کا مجموعہ) اور میموریز اینڈ میننگ شامل ہیں۔

انہوں نے 1958 کے دوران لاہور میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے ”مسلم نظریات کے چیلنجز اور مسلم معاشرے کی سماجی اقدار“ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا تھا۔شرکاء میں سے کچھ کو ان کے مقالے پر اعتراض تھا، انہوں نے اسی دوران شور شرابہ کرنا شروع کردیا تھا، اور داؤد رہبر کو اپنے مؤقف کی وضاحت کا موقع نہیں دیا گیا۔

تھیٹر کی معروف شخصیت اور مصنف ضیاء محی الدین نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ میرے گرو تھے۔ وہ میرے والد کے چھوٹے بھائی کے بیٹے تھے۔آپ نے ایسا کوئی اسکالر نہیں دیکھا ہوگا، جس کی قدر نہیں کی گئی۔وہ بیس سال سے زیادہ تقابلی مذاہب کے پروفیسر رہے۔“

انہوں نے کہا کہ داؤد رہبر بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے مرزا غالب کے خطوط کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور اس موضوع پر ایک جامع کتاب تحریر کی۔ ان کی یادداشتیں بھی کم اہم نہیں تھیں۔ وہ انسان دوست تھے۔ انہوں نے اپنے لکھے ہوئے خطوط کو کتاب کی صورت میں شایع کیا۔ میری نظر میں غالب کے خطوط کے بعد ان کی اس کتاب کو بہت بلند مقام پر دیکھتا ہوں۔ انہوں نے اس کتاب میں وہ خطوط بھی شامل کیے تھے، جو انہوں نے اپنے استاد اور دوست مولانا عبدالحق کو تحریر کیے تھے۔

ضیاء محی الدین نے کہا کہ داؤد رہبر نے ادب، فلسفہ اور زندگی کے عجائبات کی جانب میری آنکھیں کھول دی تھیں۔ اگرچہ وہ میرے چچازاد بھائی تھے، میں نے انہیں دوست ہی سمجھا۔