تعلیم میں تقسیم

06 اگست 2014

ای میل

'جدید دور' کے آغاز کے ساتھ ہی بہت سے ملکوں نے ریاست کی سطح پر مذہبی اور سیکولر دنیاؤں کو الگ رکھنے کی کوشش کی-
'جدید دور' کے آغاز کے ساتھ ہی بہت سے ملکوں نے ریاست کی سطح پر مذہبی اور سیکولر دنیاؤں کو الگ رکھنے کی کوشش کی-

مسلم معاشروں میں موجود فالٹ لائنز میں سے ایک، سیکولر اور مذہبی تعلیم کی تقسیم ہے- چند مسلم ملکوں میں، جیسے کہ پاکستان میں، مذہبی تعلیم کو تعریف و توصیف سے نوازا جاتا ہے جبکہ سیکولر تعلیم کو اسلامی اصولوں کے منافی ہونے کی بناء پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے-

اٹھارویں سے بیسویں صدی کے دوران، سامراجی ملکوں نے سائنس اور لبرل آرٹس کو متعارف کرانے کے لئے مدارس میں ایک متوازی اسکول کی تعلیم کے نظام کے طور سیکولر تعلیم کو متعارف کرایا. آزادی کے بعد بھی کوئی ملک سیکولر نظام تعلیم کو ختم نہ کر سکا کیونکہ اس کی جڑیں مظبوط اور گہری ہو چکی تھیں اور اس کے ذریعے اپنے معاشرے کو جدید بنانے میں اس کے ذریعے حاصل ہونے والے فوائد کی وجہ سے- لوگ جدید ایجادات کا مزہ چکھ چکے تھے- زیادہ تر جدید گیجٹس زیادہ تر لبرل سائنسز اور آرٹس ایجوکیشن ہی کی مرہون منت ہیں نہ کہ مذہبی تعلیم کا نتیجہ-

زیادہ تر ترقی یافتہ ملکوں نے مذہبی تعلیمات کو جاری رکھا جسے کمیونٹیز نے ریاست کی جانب سے کسی بھی مخالفت کے بغیر فروغ دیا اور بہت سے کیسوں میں تو ریاست کی مدد بھی انہیں حاصل رہی (جیسا کہ برطانیہ کا معاملہ ہے)- ان تمام ملکوں میں مذہبی تعلیم کے حوالے سے پالیسیاں مختلف تھیں پر ان سب میں تمام بچوں کے لئے بنیادی اسکولنگ لازمی تھی-

انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران، مسلمانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد سیکولر تعلیم کی حامی دکھائی دی اور انہوں نے اپنے بچوں کو نہ صرف اپنے ملکوں کے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے سمندر پار ایسے ملکوں میں بھی بھیجا جو تعلیم کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ تھے- آج بھی، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں سیکولر اور مذہبی دونوں قسم کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتی ہے اور انہیں سیکولر تعلیم اپنے ایمان کے لئے خطرہ محسوس نہیں ہوتی-

قرآن ہمیں فطرت پر غور و فکر کرنے کا حکم دیتا ہے-

تاہم، بہت سے اسلامی معاشروں میں زیادہ تر روایتی ذہنیت رکھنے والے لیڈر، استاد اور لوگ سیکولر تعلیم کے حق میں نہیں اور وہ کسی بھی موقع پر اس کے خلاف بات کرنے سے نہیں چوکتے- پچھلی دو تین دہائیوں سے تو بہت سے مسلم معاشروں میں سیکولر مخالف گروپس سیکولر تعلیم کے اتنے خلاف ہو گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہم خیال اور ہم عقیدہ لوگوں کے ساتھ مل کر بہت سے اسکول تباہ کر دیئے ہیں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ان کا اثر و نفوز زیادہ ہے، مثال کے طور پر پاکستان اور نائجیریا کے کچھ علاقے- دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گروپ سیکولر تعلیم کے ثمرات سے خود کو دور نہیں رکھ رہا بلکہ حد تو یہ ہے کہ تقریباً یہ سب ہی گروپس اس کے ذریعے ہونے والی ایجادات کو دھڑلے سے استعمال کر رہے ہیں جیسا کہ موبائل فونز، کمیونیکشن آلات، کمپیوٹر وغیرہ جن میں سے کوئی بھی چیز روایتی مذہبی تعلیم کے نتیجے میں ایجاد نہیں ہوئی-

'جدید دور' کے آغاز کے ساتھ ہی بہت سے ملکوں نے ریاست کی سطح پر مذہبی اور سیکولر دنیاؤں کو الگ رکھنے کی کوشش کی- اس سے انہیں معاشرے کے مسائل سے نبٹنے میں مدد ملی-

اور پھر ریاست تیزی کے ساتھ 'سیکولر' بنا ڈی گئیں تا کہ تمام شہریوں کے لئے برابر کی پلیئنگ فیلڈ مہیا کی جا سکے بجائے اس کے کہ کسی خاص مذہب یا فرقے کی حمایت کی جائے اور یہی وہ مسئلہ ہے جو کہ آج کل بہت سے مسلم ملکوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے- اس تقسیم سے نکلی 'سیکولر' اور 'مذہبی' نظام تعلیم کی تقسیم-

اس کا نتیجہ اس تاثر کی صورت میں نکلا کہ مقدس مطبوعات پڑھنا 'مذہبی' تعلیم ہے اور فطرت کو پڑھنا اور اسی قسم کی وہ تمام تعلیم جس میں ریسرچ بیسڈ علم اور جدید سائنسز 'سیکولر' قرار پائیں اور یہیں سے مسلمانوں کے ذہنوں میں سیکولر تعلیم کے حوالے سے ایک مہلک غلط فہمی نے جنم لے لیا-

دیگر چیزوں کے علاوہ 'مذہبی تعلیم' کا ایک ملطب یہ بھی لیا جاتا ہے کہ ایک ایسا نظام تعلیم جو اپنے سیکھنے والے کے علم، قابلیت اور صلاحیت کو بڑھانے اور سنوارنے میں مدد دے تا کہ وہ دین کو اس کے وسیع معنوں میں پڑھنے کے لائق بن سکے- چونکہ اسلام زندگی کے ہر گوشے سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا دینی تعلیم کو زندگی کے تمام پہلوؤں کو کور کرنا چاہئے-

اگر ہم قرآن قریب سے پڑھیں تو ہم یہ نکتہ مس نہیں کر سکتے- قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم فطرت اور اس میں موجود ہر شے کو سمجھیں (3:191-2)- لہٰذا یہ اور اسی قسم کی بے شمار آیات میں ہمیں خدا کی نشانیوں کو سمجھنے کا حکم دیا گیا ہے- لہٰذا سیکولر تعلیم کے ذریعے بھی آپ جو کچھ سیکھیں وہ فی مذہبی تعلیم کی قانونی تعریف پر بھی پورا اترے گی، فرق بس یہ ہو گا کہ یہاں آپ خدا کی نشانیوں کو سمجھنے کے لئے سائنسی آلات کا استعمال کر رہے ہوں گے-

ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی تعلیم صرف مقدس فرمودات اور احکامات کو پڑھ لینے یا انہیں حفظ کر لینے کا نام نہیں بلکہ ہمیں قرآن کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم خود اس ہی کے مطابق پوری کائنات پر غور و فکر کر سکیں- کائنات کے بارے میں جاننا، نیا علم حاصل کرنا اور نیا علم پروڈیوس کرنا تا کہ انسانی زندگی بہتر ہو سکے، یہ سب بھی مذہبی تعلیم کا ہی حصہ ہے-

ہمیں چاہئے کہ مذہبی تعلیم کے حوالے سے اپنی سوچ کو بدلیں جس کے مطابق صرف احکامات اور مذہبی اوراق کو حفظ کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں قرآن کے احکامات کے مطابق پوری کائنات کا علم حاصل کرنا ہے- مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا مطلب خدا کے الفاظ پر غور کرنا اور اتنا ہی اہم خدا کا کام کرنا ہے-

مذہبی اور سیکولر تعلیم کے بیچ اس مصنوعی خلیج کو ختم ہونا چاہئے- آج ہم جو فائدہ مند ایجادات استعمال کر رہے ہیں ان کا ظہور سیکولر تعلیم ہی کے جرات مندانہ ماحول میں ممکن ہوا ہے- ہمیں ان دونوں ہی کی ضرورت ہے اور کسی ایک کی نہیں تا کہ ہماری نئی نسل اپنے ساتھ دونوں دنیاؤں کے علم و دانش کو لے کر آگے بڑھ سکے-

انگلش میں پڑھیں


لکھاری پاکستان کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں تاریخ اور مسلم معاشروں کی ثقافت پڑھاتے ہیں-

ترجمہ: شعیب بن جمیل