حکومت کی ناکام حکمت عملیاں

25 اگست 2014

ای میل

آئی اے رحمان ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں۔
آئی اے رحمان ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں۔

دو ہفتے سے جاری مارچوں اور دھرنوں کے حتمی نتائج سے قطع نظر، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان واپس آمرانہ دور میں واپس چلا گیا ہے، اور اس سے آنے والے وقتوں میں ریاست اور لوگوں کو بڑی قیمت چکانی پڑے۔

عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات سیاسی تھے، اور انہوں نے بہت سارے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ لیکن دونوں ہی آمریت کے مخالف جمہوری لیڈر کی شہرت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اپنے آزادی اور انقلاب کے نعروں کے ساتھ تاریخی حوالے بھی دیے، اور یوں وہ مزدور اور ہاری طبقے میں انقلاب کی تڑپ پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے بلوچستان کے حالات کو اپنے خدشات و مطالبات میں شامل نہیں کیا، جس کی وجہ سے ان کی حمایت تقریباً صرف پنجاب میں ہی رہی، جس کی وجہ سے اس خیال کو تقویت ملی، کہ "طاقتوں" کے لیے صرف پنجاب ہی پاکستان ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو یہ دونوں حضرات کر سکے، وہ یہ کہ اپنی امیج بغیر وردی کے آمروں کے جیسی بنا لی۔ ان کی شہرت بہرحال حکومت کی وجہ سے ہے، جس نے عوام کو دھرنے کے لیے جگہ فراہم کر دینے میں ہی عافیت جانی۔ حکومت نے طاقت کا استعمال نہ کرنے کا کریڈٹ لیا، پر اس سے سکرپٹ تبدیل ہوتا ہوا نہیں لگ رہا۔

مارچ اور دھرنے کی وجہ سے اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے، کہ حکومت کا تختہ الٹنا کتنا آسان ہے۔ حکومت دو جگہوں پر ناکام ہوئی ہے۔

پہلا، اس نے سیاسی مسئلوں کو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سمجھا۔ مارچ کے شرکاء کو لاہور سے نکلنے سے روکنے کے لیے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پھر اس کے بعد رکاوٹوں کو اچانک ہٹا دینے سے عوام میں فتح کا احساس پیدا ہوا، جس سے انھیں آگے بڑھنے کی اور زیادہ ہمّت ملی۔ پھر یہ کہانی منگل کی شام تک بار بار دہرائی گئی۔

اس کے علاوہ حکومت نے عوامی ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس پر اعتبار کیا، اگرچے کہ وہ کافی دفعہ اس کام میں ناکام ہو چکی ہے۔ اگر نہیں، تو دو ماہ پہلے پولیس نے جو طاہر القادری کے گھر کے باہر کیا تھا، اسی سے حکمرانوں کو اس آپشن کے غیر مؤثر نہ ہونے کا اندازہ لگا لینا چاہیے تھا۔ ماڈل ٹاؤن واقعے پر پولیس کو جوابدہ بنا دینے کے بعد پولیس کا مظاہرین کو لاہور اور اسلام آباد میں روکنے کے لیے مورال بہت حد تک گر چکا تھا۔

دوسرا، کہ حکومت اس سارے مسئلے میں کسی سیاسی حل کے بغیر نظر آئی۔ اسلام آباد میں معمول کی زندگی کو مکمّل طور پر معطل کر کے حکومت نے مظاہرین کو ایک ایسا فائدہ فراہم کیا، جو انہوں نے خود حاصل نہیں کیا تھا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ شہر کو معطل کیے بغیر ہی مخالفین سے نمٹنے کا کوئی حل نکالتی۔

اس سب کے دوران وزیر اعظم یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ صرف پارلیمنٹ ہی ان کے جائز وزیر اعظم ہونے کے دعوے پر دستخط کر سکتی ہے۔ انہوں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا پارلیمنٹ ہاؤس کے ذریعے کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح وہ مخالفوں کو میڈیا پر اجارہ داری حاصل کرنے سے روک سکتے تھے۔

شکر ہے کہ ساری آوازیں مظاہرین کے نعروں میں نہیں دب گئیں۔ سپریم کورٹ نے خود کو اس سارے معاملے سے دور رکھ کر صحیح فیصلہ کیا۔

جن سیاسی جماعتوں نے حکومتی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ثالثی کرانے کی کوشش کی، انھیں عوام نے عزت کی نگاہ سے دیکھا۔ پر انھیں اپنی کوششوں کے واضح نہ ہونے کے الزام کو سہنا پڑے گا۔ حکومت کو بار بار سسٹم کو بچانے کے لیے قربانی دینے کا مشوره دیا گیا، پر مصیبت کے وقت مشورے دینے والوں نے واضح فارمولے دینے کے بجائے صرف مبہم مشوروں پر ہی اکتفا کیا۔

یہ ساری صورتحال بالکل اغوا برائے تاوان کے جیسی تھی، جس میں مغوی کے گھر والوں کو اغوا کاروں کے کچھ مطالبات ماننے کے لیے کہا جاتا ہے، تاکہ مغوی کی جان محفوظ رہے۔ ثالثی کرانے والے اگر واضح طور پر حکومت کو افرا تفری کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اقدامات بتاتے، تو شاید انھیں اس کام میں مضبوط عوامی حمایت حاصل ہوتی۔

کل جس طرح سچویشن ڈیولپ ہوئی ہے، اس کے بعد اب کسی کو بھی حالات کا پر امن، جائز، اور منصفانہ حل نظر نہیں آرہا، جبکہ اس حقیقت کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا، کہ ہماری جمہوریت کو بلوغت کی جانب اپنے سفر میں نقصانات کا سامنا ہے۔ جمہوریت میں مقابلہ جمہوری جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے، نہ کہ طاقت کے امیدوار "افراد" کے درمیان، جیسا کہ ہم گزشتہ جمعرات سے دیکھ رہے ہیں۔

طاہر القادری لوگوں کو موبلائز تو کر سکتے ہیں، پر ہمیں ان کے پارٹی اسٹرکچر کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ عمران خان کی جماعت میں پارٹی اسٹرکچر موجود ہے، لیکن وہ اپنی کور کمیٹی سے اسی طرح پیش آتے ہیں، جیسے ایک کپتان میدان میں اور ڈریسنگ روم میں اپنے "لڑکوں" سے پیش آتا ہے۔ نواز شریف کے ساتھ اپنی کشمکش کو ذاتیات پر لا کر وہ اس غیر ذاتی سیاست سے دور ہوگئے ہیں، جو جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔

عام آدمی کی نظر میں جو لوگ نواز شریف کو بادشاہ قرار دے رہے ہیں، وہ خود بھی وہی طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں، جن کو شاہی کہا جاتا ہے۔ آخر میں یہ، کہ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ساتھ ریاستی غلطیوں کا کوئی مناسب متبادل پیش نہیں کیا گیا۔

یہ ڈر، کہ عمران خان اور طاہر القادری نے شدّت پسند قوتوں کے لیے مثال قائم کر دی ہے، بے بنیاد نہیں ہے۔ اگر پاکستانی مدرسوں کے طالب علم افغانستان میں طالبان کی فتوحات میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں، تو وہ اپنی کارکردگی پاکستان میں بھی دہرا سکتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک مذہبی رہنما نے ریاست کو خبردار کیا، کہ مدارس کے لشکر اقتدار پر قبضہ کر لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کیا ریاست کے پاس مارچوں اور دھرنوں کی اس نئی لہر، یا اس سے شدید خطرات سے نمٹنے کے وسائل ہیں؟ پچھلے کچھ دنوں کے تجربات کے بعد تو کچھ خاص امید نہیں ہے۔

طاہر القادری اور عمران خان پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے، کہ وہ جن اداروں کو مضبوط کر سکتے تھے، ان کو انہوں نے تباہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کہانی کا سبق یہ ہے، کہ پاکستان کو ایک تو فوراً جمہوری طور طریقوں کی طرف واپس آجانا چاہیے، شفاف اور مؤثر ادارے تشکیل دینے چاہییں، اور ذمہ دار گورننس کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے دوست اور دشمن کے کردار کے کچھ ضوابط بنا لینے چاہییں۔

انگلش میں پڑھیں۔


آئی اے رحمان ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 21 اگست 2014 کو شائع ہوا۔