انسداد دہشت گردی کا ایکشن پلان منظور

اپ ڈیٹ 19 دسمبر 2014

ای میل

وزیر اعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ۔ ۔  فائل فوٹو
وزیر اعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ۔ ۔ فائل فوٹو

راولپنڈی : وزیر اعظم نواز شریف کے جنرل ہیڈ کوارٹرز کے دورے پر ملک میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایکشن پلان منظور کر لیا گیا ہے۔

نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔

جی ایچ کیو کے دورے پر جنرل راحیل شریف اور دیگر کو بریفنگ دی گئی جس کے بعد آپریشن ضرب عضب، آپریشن خیبر-ون، سانحہ پشاور، آرمی چیف کے دورہ افغانستان سمیت دیگر معاملاتپر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔

ڈان نیوز کے مطابق اس موقع پر قبائلی علاقوں میں جاری آپریشنز کو مزید وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی کے لیے متعلقہ قوانین میں بھی ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف بڑے شہروں میں بھی کارروائی کرنے کا پر اتفاق کیا گیا۔

اعلی سطح کے اجلاس میں وزیراعظم کو ملک کی اندرونی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان پر اعتماد میں لینے کے علاوہ سرحدی صورتحال، آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن خیبرون سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

عسکری حکام نے بتایا کہ شمالی علاقوں میں جاری کارروائیوں میں کئی اہم دہشت گرد مارے جاچکے اور کئی علاقے دہشت گردوں سے چھڑا لیے گئے ہیں۔

عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جارہی ہے اور آخری دہشت گرد کی موجودگی تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف اہم اقدامات کی منظوری دے گی۔

اس موقع پر یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کےدرمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کو مزید مربوط بنانے کے ساتھ ساتھ سول اور فوجی اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ بہتر بنایا جائے گا،

عسکری و سیاسی قیادت میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سیکورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ ہوا جبکہ آپریشن ضرب عضب کے اگلے مرحلے میں وادی تیراہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے جائیں گے

واضح رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل ہی آرمی چیف نے 6 دہشت گرودں کی پھانسی کی منظوری دی ہے۔