ہندوستان: انتہا پسند ہندوؤں کا چرچ پر حملہ

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2015

ای میل

اے ایف پی کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں گذشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد انتہا پسند ہندووں کی جانب سے اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے — اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں گذشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد انتہا پسند ہندووں کی جانب سے اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے — اے ایف پی فائل فوٹو

نئی دہلی: ہندوستانی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وسطی ہندوستان کے علاقے میں ایک چرچ پر حملے میں ملوث 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہندوستانی ریاست مدھیا پردیش میں چرچ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری دائیں بازوں کی ہندو جماعت دھرما سینا نے قبول کی ہے۔

حملے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ چرچ میں گزشتہ دنوں 200 سے زائد قبائلیوں کو مبینہ طور پر عیسائیت میں تبدیل کیا گیا تھا۔

سینئر پولیس افسر ایچ سی مشرا کا کہنا ہے کہ پولیس نے چرچ پر حملے کے الزام میں 6 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث دیگر ملزمان کی شناخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مدھیا پردیش میں ایک چرچ پر حملے کے دوران لوگوں کے ایک گروہ نے چرچ کے احاطے میں موجود درختوں ،عمارت کے دروازوں اور کھڑکیوں کی توڑ پھوڑ کررہے ہیں۔

ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی ایک انتہائی متنازعہ عمل قرار دیا جاتا ہے جبکہ سیکولر کہلانے والے ہندوستان میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا جاتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندو انتہا پسندووں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

جس کے بعد اقلیتون کی عبادت گاہوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور مذکورہ چرچ پر حملے کا واقع بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کی رات کچھ نقاب پوش افراد نے بی جے پی کی حکومتی ریاست مدھیا پردیش علاقے مہاشٹرا میں چرچ پر حملہ کرکے اس میں توڑ پھوڑ کی تھی۔