دنیا کی پہلی گرم خون والی مچھلی دریافت

15 مئ 2015

ای میل

اس سے پہلے یہی تصور کیا جاتا تھا گرم خون عام طور پر ہم انسانوں یا دیگر ممالیہ جاندار اور پرندوں تک محدود ہے— رائٹرز فوٹو
اس سے پہلے یہی تصور کیا جاتا تھا گرم خون عام طور پر ہم انسانوں یا دیگر ممالیہ جاندار اور پرندوں تک محدود ہے— رائٹرز فوٹو

دنیا کی پہلی گرم خون کی مچھلی دریافت ہوئی جس کی جسم میں ممالیہ جانداروں اور پرندوں کی طرح کا زیادہ درجہ حرارت والا خون گردش کرتا ہے ۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے یہی تصور کیا جاتا تھا گرم خون عام طور پر ہم انسانوں یا دیگر ممالیہ جاندار اور پرندوں تک محدود ہے اور سمندروں و دریاﺅں میں پائے جانے والے جانداروں کا خون سرد ہوتا ہے۔

تاہم اب پہلی بار اوفا نامی مچھلی کی قسم سامنے آئی ہے جس کا خون زمین پر پائے جانے والے جانداروں کی طرح گرم ہے۔

یہ مچھلی امریکا، آسٹریلیا اور دیگر متعدد ممالک میں پائی جاتی ہے اور اپنے پروں کو حرکت دے کر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس نے اپنے اندر ایسا اندرونی درجہ حرارت کا نظام قائم کرلیا ہے جو اس کے خون کو گرم رکھتا ہے۔

اس مچھلی کا یہ نظام گلپھڑوں سے خارج ہونے والے سرد خون کو گرم کرنے کا کام کرتا ہے اس کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 4 سے 5 سینٹی گریڈ ہے۔

امریکا کی سمندری حیاات کے لیے کام کرنے والے ادارے این او اے اے کے سائنسدانوں نے اس مچھلی کے غیر معمولی اندرونی نظام کو دریافت کیا۔

بیضوی شکل کی مچھلی کسی گاڑی کے ٹائر جتنی جسامت کی ہوتی ہے اور تیزرفتاری سے تیرنے کے ساتھ ساتھ تیر ردعمل کے ساتھ خطرناک شکاری مانی جاتی ہے اور عام طور پر گہرے پانیوں میں ہی ملتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا گرم جسم ہی اسے متحرک شکاری بناتا ہے جو اپنے تیز ترین شکاروں کا کامیاب کرسکتی ہے اور طویل فاصلے تک ہجرت بھی کرسکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ فطرت اپنے مظاہر سے ہمیشہ ہی ہمیں حیران کردیتی ہے اور کون سوچ سکتا ہے کہ سرد پانیوں میں رہتے ہوئے کوئی خود کو گرم رکھ سکتا ہے مگر اوفا کی یہ سب سے بڑی خاصیت ہے۔