نواز-مودی ملاقات پر امریکا خوش

11 جولائ 2015
جان کربی—اے پی فائل فوٹو۔
جان کربی—اے پی فائل فوٹو۔

واشنگٹن: وزیراعظم نواز شریف اور ان کے انڈین ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات کو خوش آمدید کہتے ہوئے امریکا نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو تناؤ کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہیئیں۔

واشنگٹن میں ایک بریفنگ کے دوران اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان روس میں ملاقات کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم ایسے کسی اقدام کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم تناؤ کم دیکھنا چاہتے ہیں اور خواہش ہے کہ دونوں ممالک باہمی طور پر اپنے مسائل حل کرلیں۔

جان کربی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کروڑوں بچے رہتے ہیں اور سب ان کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں اور امریکا امید کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما بھی اس ہدف کا تعاقب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تاہم وہ اس بحث میں نہیں پڑے کہ پاکستان میں کچھ ادارے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند نہیں۔

جب ایک ہندوستانی صحافی نے پاکستان رہنماؤں کے 'اشتعال انگیز' بیانات کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میں وہ تبصرے نہیں دیکھے اور اس بات پر تبصرہ نہیں کرسکتا کہ دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کے بارے میں کیا اعلانات کرتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں