وزیرستان: دھماکے میں 5 اہلکارزخمی

24 فروری 2016

ای میل

سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر
سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا — فوٹو : بشکریہ آئی ایس پی آر

پشاور: جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی تحصیل وانا کے علاقے تنائی میں دھماکے کی زد میں آئی جس سے اہلکار زخمی ہوئے۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ شدت پسندوں کی جانب سے سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ کا دھماکا کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 5 ایف سی اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے فیلڈ اسپتال وانا منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں سیکیورٹی فورسز علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ میں سیکیورٹی فورسزکی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، جس سے سات اہلکار زخمی ہوئے تھے.

گذشتہ روز ہی شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی کارروائی میں 15 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا.

علاوہ ازیں اپر کرم ایجنسی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ کے قریب سرحد پار سے تین راکٹ فائر کیے گئے تھے، اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی.

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر وفاق کے زیر انتظام قبائلی ایجنسیوں میں فورسز پر حملہ کرنے کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔

دو روز قبل کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ کیا گیا تھا، متعدد میزائل فائر کیے گئے جس سے مبینہ عسکریت پسندوں کے 3 ٹھکانے تباہ جبکہ ایک مشتبہ شدت پسند کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی البتہ یہ واضح نہ ہو سکا کہ یہ ڈرون حملہ پاک فوج نے کیا تھا یا امریکی طیاروں نے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ قبل ازیں مہمند ایجنسی میں 2 مقامات پر حملہ کیا گیا تھا جس میں خاصہ دار فورس کے 9 اہلکار ہلاک ہوئے تھے، ان حملوں کی ذمہ داری شام اور عراق کی شدت پسند تنظیم داعش کی حامی تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔

اس حملے کے 2 روز بعد مہمند ایجنسی میں فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ کرنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

مہمند ایجنسی میں فورسز نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں گذشتہ ہفتے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک افغان عالم دین کو قتل کر دیا تھا جو کہ 15 سال سے اس علاقے میں مقیم تھے، شدت پسندوں کی جانب سے ایسے علماء کو نشانہ بنانہ عام ہے جو ان کی مخالفت کرتے ہیں.

جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں نے 4 روز قبل ایک نو تعمیر شدہ سرکاری اسکول دھماکے سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کی مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی تھی، اس دھماکے سے 6 روز قبل بھی ایک دھماکا کیا گیا تھا، اس دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا تھا.

میزائل حملوں کا نشانہ بننے والی کرم ایجنسی وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے.

پاک افغان سرحد پر واقع ان قبائلی علاقوں میں فوج متعدد آپریشنز کر چکی ہے جس کے بعد یہاں سیکیورٹی صورتحال بہتر کرنے کا دعویٰ کیا گیا.

کرم ایجنسی کے ساتھ واقع خیبر ایجنسی میں گذشتہ 2 برسوں میں 2 آپریشن 'خیبر-ون' اور 'خیبر-ٹو' کیے گئے البتہ اب بھی ان علاقوں میں شدت پسند مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے، ایک ہفتہ قبل بھی ایک کارروائی میں 9 مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ شمالی وزیرستان میں جون 2014 سے آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی طرف سے کرم ایجنسی کے بعض علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں اور متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔