چھوٹو گینگ کے سربراہ سے تفتیش کریں گے، فوج

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2016

ای میل

راولپنڈی/لاہور: راجن پور میں 23 روز سے جاری آپریشن 'ضرب آہن' میں چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو نے اپنے 13 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے جبکہ فوج نے علاقے میں آخری ڈاکو کی موجودگی تک سرچ آپریشن کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ نے غیر مشروط ہتھیار ڈالے ہیں، جو اس وقت فوج کی تحویل میں ہیں اور اس سے تفتیش کی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملزمان کے پاس موجود 24 مغوی پولیس اہلکاروں کو بھی باحفاظت بازیاب کروالیا گیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے ملک کے تمام نو گو ایریاز کو ختم کرنے کا عزم دھراتے ہوئے کہا کہ جزیرے کو نوگو ایریا بنا دیا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں ڈاکوؤں نے بڑے بڑے بنکر بنا رکھے ہیں جن کے خاتمے تک سرچ آپریشن جاری رہے گا۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آپریشن کمانڈر اور افواج کو شاباش دی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکوؤں کی اہل خانہ کو بھی باحفاظت بازیاب کروالیا گیا ہے، جس میں 24 خواتین اور 44 بچے شامل ہیں۔

اس سے قبل آنے والے رپورٹس کے مطابق 22 روز تک پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ’چھوٹو گینگ‘ کے اراکین نے بالآخر فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق راجن پور کے چھوٹو گینگ نے اپنے خلاف آپریشن ’ضرب آہن‘ شروع ہونے کے بعد یرغمال بنائے گئے 24 پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کردیا تھا۔

سینئر پولیس آفیسر نے قبل ازیں ڈان کو بتایا تھا کہ گینگسٹرز اپنی خواتین اور بچوں کو بچانے کے لیے یرغمالیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن'ضرب آہن' کا چارج فوج نے سنبھال لیا

قبل ازیں غلام رسول عرف چھوٹو کی قیادت میں چلنے والے چھوٹو گینگ کو فوج کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے لیے پیر کی دوپہر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جس کے ختم ہونے کے بعد فوج نے کچا جمال کے علاقے میں بڑے آپریشن کا اعلان کیا تھا۔

پولیس ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چھوٹو نے یرغمال پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بعد اپنے، اپنے اہلخانہ اور چند وفادار ساتھیوں کے لیے دبئی فرار ہونے کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ کیا تھا، جسے فورسز کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’چھوٹو گینگ‘کےٹھکانوں پرہیلی کاپٹروں کی شیلنگ

واضح رہے کہ پولیس نے وزارت داخلہ کی اجازت کے بعد گزشتہ ہفتے ’چھوٹو گینگ‘ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کیا تھا، آپریشن میں 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور 24 اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد فوج کو طلب کیا گیا، جس نے 16 اپریل کو آپریشن کا چارج سنبھالا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ چھپے ہوئے گینگسٹرز کا گھیراؤ مزید سخت کردیا گیا ہے جبکہ پولیس اور رینجرز پہلے ہی آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔

چھوٹو گینگ کیسے وجود میں آیا؟

پولیس حکام کے مطابق غلام رسول عرف چھوٹو ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں 3 سے 5 سال تک رکن صوبائی اسمبلی عاطف مزاری کے گارڈ کے طور پر فرائض انجام دے چکا ہے۔

غلام رسول نے پنجاب پولیس کے لیے 2007 تک مخبر کی حیثیت سے کام کیا اور راجن پور اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں مختلف گروہوں کی شمولیت کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کرتا رہا۔

مزید پڑھیں: چھوٹو سے چھوٹو گینگ تک کا سفر

مقامی افراد اور پولیس کا کہنا ہے کہ چھوٹو، روجھان کے علاقے میں موجود مزاری قبیلے کی بکرانی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس کے پولیس کے ساتھ اختلافات ہوگئے جس کے بعد اس نے اپنا ایک الگ گروہ بنا کر مجرمانہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

بعد ازاں روجھان، ڈیرہ غازی خان، سندھ اور بلوچستان سے منسلک اضلاع میں کام کرنے والے کچھ چھوٹے اور نمایاں گروپوں نے بھی چھوٹو گینگ میں شمولیت اختیار کرلی۔

جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقہ جات میں اشتہاری قرار دیئے گئے مجرم، چھوٹو کے قبضہ کیے ہوئے علاقوں میں پناہ لیتے تھے۔

پنجاب پولیس نے چھوٹو گینگ کے خلاف 6 سے 7 آپریشن کیے جن میں پولیس کے 30 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ گینگ کے صرف چند ہی بدمعاش مارے گئے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔