پاناما پیپرز کی دوسری قسط: 259 پاکستانیوں کے نام شامل

اپ ڈیٹ 09 مئ 2016

ای میل

صحافیوں کے گروپ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) نے پاناما پیپرز سے متعلق مزید دستاویزات جاری کردی ہیں جن کے مطابق 259 پاکستانی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔


تازہ ترین دستاویزات میں مندرجہ ذیل افراد کے نام شامل ہیں:

  • پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق جنرل مینیجر عبدالستار ڈیرو

  • کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شوکت احمد

  • نامور فلم ساز کی والدہ صباء عبید

  • بینکر اور اسٹاک بروکر کے بیٹے علی صدیقی

  • مرحوم عنایت اسماعیل کی بیٹی مایا اسماعیل

  • عرفان پوری، سلمان احمد

  • گل محمد ٹبہ

  • حسین داؤد اور ان کے بیٹے عبد الصمد داؤد اور شہزادہ داؤد

  • جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمٰن

  • سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ

  • پاکستانی ریڈی میڈ گارمنٹس کمپنی سورتی انٹرپرائز کے شاہد رشید سورتی، نرگس رشید سورتی زاہد رشید سورتی


اس کے علاوہ بھی دستاویزات میں متعدد نام شامل ہیں جنہیں offshoreleaks.icij.org ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔

آف شور اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟

- کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

- کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموماً شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ان میں سے بیشتر کا تعلق کراچی اور لاہور سے ہے جبکہ اسلام آباد پشاور اور گجرات کے شہری بھی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ۔

مزید پڑھیں: 'پاناما لیکس پر احتساب کا آغاز وزیراعظم سے'

ان افراد میں تاجر، سرکاری افسران اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں جبکہ ان آف شور کمپنیوں کی مالیت اربوں ڈالر میں ہے ۔

ڈان کی درخواست پر شرمین عبید چنائے نے تبصرہ کرتے ہوئے آئی سی آئی جے کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے وضاحت پیش کی کہ ان کا پاناما لیکس میں نام موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام آیا ہے تاہم انہوں نے کمپنیوں کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔

دستاویزات میں شامل کچھ نام۔
دستاویزات میں شامل کچھ نام۔

جاری ہونے والی حالیہ فہرست میں فوری طور پر اس بات کی نشاندہی نہیں ہوسکی ہے کہ اس میں 3 اپریل کی جاری فہرست کی طرح پاکستان کے اہم سیاست دانوں کے نام شامل ہیں، جیسا کہ پاناما لیکس کی جاری ہونے والی پہلی فہرست میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کے نام دنیا کے ان رہنما میں شامل تھے، جن کے اثاثے آف شور کمنیوں میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس تحقیقات: 'اپوزیشن کے ٹی او آرز مسترد'

پاناما لیکس میں الزام لگایا گیا تھا کہ جس وقت نواز شریف اپوزیشن میں تھے انھوں نے ایک ڈچ بینک سے لندن میں موجود ان کے 4 فلیٹس پر 70 لاکھ پاؤنڈ کا قرضہ حاصل کیا تھا جو برطانیہ کی ورجن آئی لینڈ نامی آف شور کمپنی کی ملکیت تھے۔

خیال رہے کہ پاناما لیکس کی جانب سے جاری کی جانے والی پہلی فہرست کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور اپوزیشن نے پاناما لیکس میں نام آنے کے باعث ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

نواز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے گذشتہ مہینوں میں نواز شریف کے اہل خانہ کو بے قصور ثابت کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ وہ مشہور زمانہ وکی لیکس کی طرح دستاویزات کی بھرمار نہیں کرے گا، بلکہ دنیا بھر میں امیر افراد کی جانب سے قائم کی گئیں 2 لاکھ آف شور کمپنیوں کے نام اور ان کے حوالے سے دیگر معلومات سے متعلق انکشافات کرے گا۔

پاناما میں آف شور کمپنیوں سے متعلق معاملات کے لیے مشہور لاء فرم موزیک فانسیکا کی جانب سے چند ہفتوں قبل، تقریباً چار دہائیوں کے ڈیٹا پر مشتمل انتہائی خفیہ دستاویزات کے بعد کئی ممالک کی سیاست میں تہلکہ مچ گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاناما لیکس اسکینڈل، آئس لینڈ کے وزیراعظم مستعفی

دستاویزات میں جن سیاسی رہنماؤں اور شخصیات سے متعلق جو انکشات سامنے آئے، اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی جھلک مندرجہ ذیل ہے۔

• آف شور کمپنی کے انکشاف کے بعد آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو عوامی احتجاج کے باعث مجبور ہو کر عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

• برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے والد کی قائم کردہ آف شور کمپنی سے منافع حاصل کیا۔

• روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے قریبی رشتہ دار کا نام سامنے آیا، جس کے بعد روسی صدر نے یہ دعویٰ کیا کہ پاناما پیپرز، ان کے خلاف امریکا کی سازش ہے۔

• ارجنٹینا کے صدر ماریکیو ماکری کا بھی آف شور کمپنیوں سے تعلق سامنے آیا۔

• چین میں سیاسی رہنماؤں کے خاندان کی آف شور کمپنیوں سے تعلقات سے خبریں میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر چلانے پر پابندی عائد کردی گئی۔

• پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کا نام بھی ان کے بچوں کے حوالے سے پاناما لیکس میں سامنے آیا، جس کے مطابق وزیراعظم کے بچے مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

• دیگر مشہور افراد، جن میں دستاویزات افشا ہونے کے بعد بے چینی پیدا ہوئی، ان میں اسٹار فٹبالر لیونل میسی، ہانگ کانگ کے فلم اسٹار جیکی چین اور ہسپانوی فلم ڈائریکٹر پیڈرو الموڈور کے نام شامل ہیں۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

منی لانڈرنگ کے عالمی واچ ڈاگ ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطابق بیرون ممالک قائم ہونے والی کمپنیاں اور ٹرسٹس آف شور اکاؤنٹس کو بزنس فنانس اور ٹیکس پلاننگ کے شعبوں کے لیے قانونی طور پر استعمال کرسکتی ہیں۔'

آف شور اکاؤنٹس کا ناجائز استعمال

شیل کمپنیوں اور دیگر اداروں کا فنڈز کے ذرائع اور ملکیت چھپانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے ہاتھوں غلط استعمال ہوسکتا ہے، پاناما لیکس کی رپورٹ میں ایسے 12 لاکھ 14 ہزار سے زائد اداروں کی معلومات شامل ہیں، جن کا 200 ممالک میں 14 ہزار سے زائد کلائنٹس سے تعلق ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔