اردو املا کا مسئلہ

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2016

ای میل

ماہرینِ لسانیات کئی بار یہ تجویز پیش کرچکے ہیں کہ اخبارات اور کتابوں میں اردو املا میں جو تضاد پایا جاتا ہے اُسے دور کیا جانا چاہیے۔

اس کے لیے اردو کے لیے کام کرنے والے ادارے اور ماہرینِ لسانیات کوئی انجمن یا کمیٹی بنا کر کام کریں اور جہاں تضاد پایا جاتا ہے، اُسے دور کرکے کسی ایک املا پر اتفاق کیا جائے اور اس اتفاق کو عام بھی کیا جائے۔

آج کل دھماکا، دھوکا، معرکہ جیسے الفاظ اخبارات میں مختلف املا سے لکھے جارہے ہیں، مثلاً دھماکہ، دھوکہ وغیرہ۔ ایک بہت سینئر صحافی اور کالم نگار جناب عبدالقادر حسن نے تو 25 مئی کے اپنے کالم میں معرکہ بھی الف سے سر کیا، یعنی ’’معرکا۔‘‘

شاید وہ دھوکا، دھماکا سے متاثر ہوکر معرکہ کو بھی اسی صف میں لے آئے۔ یہ سہوِ کاتب یا کمپوزنگ کی غلطی نہیں، کیونکہ اس کالم میں یہ ’معرکا‘ کئی جگہ آیا ہے۔ عبدالقادر حسن کا شمار اُن کالم نگاروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے جن کو پڑھ کر ہم نے اردو سیکھی ہے۔

سیکھنے کا عمل تو آخری سانس تک جاری رہتا ہے، بشرطیکہ سیکھنے کی جستجو بھی ہو۔ 28 مئی کو جسارت کی طرف سے مشاعرہ ہوا جس میں محترم انورشعور بھی تشریف لائے تھے۔

پڑھیے: اردو زبان کے بارے میں چند غلط تصورات

دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک استاد نے تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پنبہ‘‘ میں پ پر پیش ہے یعنی پُنبہ۔ بہت سے لوگ اسے بالفتح یعنی زبر سے پڑھتے ہیں۔ رشید حسن خان نے ’’کلاسیکی ادب کی فرہنگ‘‘ میں پیش کے علاوہ زبر سے بھی دیا ہے، لیکن اس کے جتنے مفہوم دیے ہیں ان سب میں ’پ‘ پر پیش ہی ہے، مثلاً پنبہ دہاں، پنبۂ مینا وغیرہ۔ پُنبہ روئی، کپاس وغیرہ کو کہتے ہیں۔ پنبہ دہاں کم سخن اور خاموش کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ورنہ پنبہ دہاں اور پنبۂ مینا کا مطلب ہے وہ روئی جو شراب کی بوتل پر لگا دی جاتی تھی تاکہ شراب گر نہ سکے۔ پُنبہ بگوش کی اصطلاح بھی ہے، یعنی کان میں روئی ٹھونس لینا۔ حکمران اس پر عمل پیرا اور عوام پنبہ دہاں ہیں۔ فارسی کا مشہور شعر ہے

تن ہمہ داغ داغ شد

پنبہ کجا کجا نہم

حضرت انور شعور نے اس موقع پر بتایا کہ انہوں نے اس کو اردو میں نظم کیا ہے اور پُنبہ کی جگہ پھاہا استعمال کیا ہے۔ پھاہا کو پھایا بھی کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ پُنبہ تو متروک ہوچکا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے اور انور شعورکا کہنا تھا کہ الفاظ کو متروک ہونے سے بچانے کے لیے ان کا احیا کیا جانا چاہیے۔ کسی زبان کے فروغ اور وسعت کے لیے ضروری ہے کہ اس میں نئے الفاظ شامل کیے جائیں، نہ کہ نکالے جائیں۔

املا کے حوالے سے یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ برسوں سے جو املا رائج تھا، اُس میں تبدیلی آرہی ہے اور اس میں رشید حسن خان کا بڑا ہاتھ ہے۔ مثلاً جہاں ہمزہ استعمال ہوتی آ رہی تھی وہاں ’یے‘ استعمال ہونے لگی ہے جس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے، مثلاً فہمائش، رہائش، گنجائش، نمائندہ وغیرہ۔ اب یہ فہمایش، گنجایش، نمایندہ وغیرہ لکھے جارہے ہیں۔

ایسے اور کئی الفاظ مل جائیں گے۔ صحیح کیا ہے، اس سے قطع نظر کسی ایک املا پر اتفاق ہونا چاہیے۔ جاداد میں یے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، یعنی اسے جائیداد لکھنے کے بجائے جاداد یا جائداد لکھنا کافی ہے۔ تاہم علمی اردو لغت میں جاداد کے آگے لکھا ہے ’جائیداد زیادہ مشہور ہے‘۔ یہ فارسی سے داخل ہوئی ہے۔ اب جیسی جس کی جاداد ہو وہ ویسے ہی استعمال کرے۔

پڑھیے: میری اردو بہت خراب ہے!

لفظ رہائش پر جوش ملیح آبادی کا اعتراض یہ تھا کہ رہنے سے رہائش بنانا غلط ہے، ورنہ پینے سے پینائش بھی بناؤ۔ ترکیب صحیح ہو یا غلط، اردو کو ایک لفظ مل رہا تھا، جوش صاحب بلاوجہ جوش میں آئے۔

رہائش عام فہم ہے، خواہ ہمزہ سے لکھیں یا یے سے۔ اعتراض تو قیام گاہ پر بھی ہوسکتا ہے کہ قیام عربی ہے اور گاہ فارسی ہے، تو پھر کیوں نا ’’باڑی‘‘ کہا جائے۔ مکان یا قیام گاہ کو ’’باڑی‘‘ بنگالی میں کہتے ہیں۔ مثلاً ’’تمار باڑی‘‘۔ لیکن باڑی ہندی کا لفظ ہے اور اردو میں کھیتی کے سابقہ کے ساتھ عام ہے یعنی ’’کھیتی باڑی‘‘۔ بڑا گھر ہو تو وہ باڑا کہلاتا ہے۔

ہندوستان میں اب بھی کئی محلّوں کے نام باڑا ہیں جیسے باڑا ہندو راؤ۔ اسی سے امام باڑا ہے اور لکھنؤ میں سب سے بڑا باڑا ’’امام باڑا آصف جاہ‘‘ ہے۔ باڑا ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے احاطہ، چار دیواری، دائرہ، دنگل، میدان، گورستان وغیرہ۔

لغت کے مطابق امام باڑا وہ احاطہ یا مکان جو اہلِ تشیع خاص طور پر عزاداری کے لیے بناتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اب یہ ’’امام بارگاہ‘‘ کہلاتے ہیں، شاید اس لیے کہ اب یہاں باڑا کا لفظ مویشیوں کے، خاص طور پر گائے، بھینسوں کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ اہلِ تشیع کی دل دہی کے لیے اب امام بارگاہ ہی کہنا چاہیے، لکھنؤ اور اردو کی کلاسیکی کتابوں میں خواہ کچھ ہو۔

پڑھیے: میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال

کیے، دیے، لیے وغیرہ کے املا پر تو پہلے بھی بات ہوچکی ہے لیکن بیشتر اخبارات اور خبر ایجنسیاں ان الفاظ کو ہمزہ سے لکھنے پر مُصر ہیں۔

جسارت سمیت کئی اخبارات میں ’’بدھ مت مذہب‘‘ اور ’’ہندو مت مذہب‘‘ پڑھنے میں آرہا ہے۔ نوجوان صحافی یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ یہ ’’مت‘‘ کیا ہے اور کس کی مت ماری گئی کہ مت اور مذہب کو ملا کر لکھ رہا ہے۔ یقین یہ بھی ہے کہ اگر چھپنے سے پہلے کوئی تصحیح کردے تو اگلے دن کوئی اسے دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا اور پھر غلطی کا اعادہ ہوتا ہے۔

’’مت‘‘ تو کہتے ہی مذہب، دھرم، عقیدہ، سمجھ بوجھ، عقل، دانش، فہم، ادراک، دانائی وغیرہ کو ہیں۔ چنانچہ بدھ مت کے ساتھ مذہب لکھنا جہالت ہی ہے۔ مت بمعنی سمجھ بوجھ، یہ الٹ بھی جاتی ہے اور پلٹ بھی۔ ’مت ماری جانا‘ کا مطلب ہوا عقل جاتی رہنا۔ مت پھرنا، مت دینا، مت پلٹنا وغیرہ کئی محاورے ہیں۔ ’’مت‘‘ کلمہ نفی بھی ہے جیسے ’’مت کر‘‘۔

اس حوالے سے ایک محاورہ یا ساس کو مشورہ بھی ہے کہ ’’مت کر ساس برائی، تیرے آگے بھی جائی‘‘۔ لیکن کیا جن کی جائی (بیٹی) نہ ہو انہیں بہو کی برائی کرنے کی چھوٹ ہے؟

ایک کالم نگار کے کالم میں پڑھا ’’سریر آرائے تخت ہوئے‘‘۔ ایک صحافی سے سنا ’’سریر آرائے مسند‘‘۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’سریر‘‘ کہتے ہی تخت، مسند، مسہری یا پلنگ کو ہیں۔

غنیمت ہے کہ کالم نگار نے سریر کو ’ص‘ سے نہیں لکھا، ورنہ کوئی کیا بگاڑ لیتا؟ بولنے میں تو سریر اور صریر کا پتا نہیں چلتا۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہوا اور بہ اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔