'ہندوستان کی خواہش معتدل، خوشحال اور مستحکم پاکستان'

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2016

ای میل

کراچی: انڈین ہائی کمشنر گوتم بمباولے تقریب سے خطاب کررہے ہیں—فوٹو/ فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار
کراچی: انڈین ہائی کمشنر گوتم بمباولے تقریب سے خطاب کررہے ہیں—فوٹو/ فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار

کراچی: ہندوستان کے ہائی کمشنر گوتم بمباولے کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کو معتدل، خوشحال اور مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

کراچی کونسل برائے فارن ریلیشنز (کے سی ایف آر) کے زیر اہتمام کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں گوتم بمباولے نے کہا کہ جب پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تو ہم نے فوری طور پر اسے انڈین شہری تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے کا مطالبہ کیا جسے مسترد کردیا گیا۔

بلوچستان میں ہندوستانی مداخلت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے جموں و کشمیر میں ایک پاکستانی بہادر علی کو گررفتار کیا تو اس دہشت گردی کی تربیت پاکستان سے حاصل کرنے کا اعتراف کیا، ہم نے پاکستان کو قونصلر رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

گوتم بمباولے کا کہنا تھا کہ انڈیا کی خواہش ہے کہ وہ ایسا پاکستان دیکھے جو معتدل ہو، خوشحال ہو، مستحکم ہو اور اس کے پڑوسیوں اور دنیا کے دیگ رممالک کے ساتھ پر امن تعلقات ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کی اصل وجہ پاکستان ہے: ہندوستان کا الزام

انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بھروسے کی فضا پیدا کی جائے جس کا گزشتہ کئی برسوں سے فقدان رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات معمول پر لانے کا راستہ باہمی تجارت اور کاروبار میں اضافے سے ہوکر گزرتا ہے،2012 میں دونوں ملکوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے روڈ میپ پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کی باہمی تجارت کا حجم محض 2.5 ارب ڈالر ہے جبکہ اس میں 20 ارب ڈالر تک پہنچے کی صلاحیت موجود ہے۔

گوتم بمباولے نے کہا کہ انڈیا نے افغانستان کو غذائی قلت دور کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش کی تھی اور اس سلسلے میں زیادہ تر گندم وہاں بھیجی جانی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو تجویز دی کہ گندم پاکستانی ٹرکس کے ذریعے واہگہ سے طورخم اور پھر افغانستان پہنچنی چاہیے، یہ تینوں ملکوں کے لیے فائدے کا سودے تھا۔

سرحدی معاملات

گوتم بمباولے نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی عروج پر ہونے کے باوجود بھی آپریشنل لیول پر دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ رہتا ہے، گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پاک انڈیا سرحدی فورسز کے درمیان انتہائی خوشگوار روابط قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں مستقبل کا کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن فی الحال وزیراعظم نریندر مودی رواں برس نومبر میں ہونے والے سارک سراہان مملک اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان جانے کے خواہش مند ہیں۔

گوتم بمباولے نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستانیوں کو انڈین ویزا حاصل کرنے میں خاصی مشکلات پیش آتی ہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ برس ایک لاکھ افراد نے ویزا کیلئے درخواست دی جن میں سے 90 ہزار کو ویزے جاری بھی کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:’ہندوستان کو پاکستان سے مذاکرات میں کوئی تذبذب نہیں‘

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے گوتم بمباولے نے کہا کہ گزشتہ برس دسمبر میں وزیر برائے خارجہ امور سشما سوراج پاکستان آئی تھیں اور اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

25 دسمبر کو ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی بھی لاہور آئے تھے تاہم 2 جنوری کو پٹھان کوٹ واقعہ رونما ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ انڈین حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ ’آئیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مل کر کام کریں جو کہ نہ صرف پاکستان اور ہندوستان بلکہ دنیا بھر کیلئے دردِ سر بنی ہوئی ہے‘۔

گوتم بمباولے نے کہا کہ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ کسی ایک مسئلے کے بجائے جامع مذاکرات کریں جن میں تمام مسائل کو شامل کیا جائے۔

خاص طور پر انہوں نے معاشی تنازع کو حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جسے جلد حل کرکے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

چین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا نے 1960 اور 70ء کی دہائی میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ پہلے چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر بات کی جائے گی پھر کوئی اور مسئلہ زیر غور آئے گا۔

لیکن 1988 میں انڈیا نے فیصلہ کیا کہ سرحدی تنازع تو اتنی جلدی حل ہونے والا نہیں لہٰذا اس کی وجہ سے دیگر معاملات کو زیر التواء نہیں رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج چین انڈیا کے اہم ترین تجارتی پارٹنرز میں سے ایک ہے اور ہماری باہمی تجارت کا حجم 75 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

گوتم بمباولے نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انڈیا اور پاکستان ہر اس مسئلے پر بات کریں جو جلد حل ہوسکتا ہے اس طرح دونوں ملکوں باہمی اعتماد اور بھروسے میں اضافہ ہوگا۔

گوتم بمباولے نے کہا کہ پاکستان میں کئی دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا نے آپس میں کرکٹ کھیلنا کیوں بند کردی، میرا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان صرف کرکٹ نہیں بلکہ ہاکی اور ٹیبل ٹینس میچز بھی ہونے چاہئیں۔

مسئلہ کشمیر

کشمیر میں ہندوستانی فوج کے مظالم اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور مصنف اروندھتی رائے کے ساتھ ہونے والے سلوک کے حوالے سے سوال پر گوتم بمباولے نے کہا کہ ہندوستان کو بھی کشمیریوں کے حوالے سے اتنی ہی فکر لاحق ہے جتنی کہ کسی اور ملک کو۔

گوتم بمباولے نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا دونوں ہی کو خدشات ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے، جموں و کشمیر کا مسئلہ داخلی ہے، آپ کو اپنے مسائل پر توجہ دینی چاہیے‘۔

جب ان سے بلوچستان میں ہندوستانی مداخلت کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کلبھوشن یادیو اور بہادر علی کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:کشمیر میں ہندوستانی مظالم پر پاکستان میں یوم سیاہ

ہندوستان کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے حوالے سے سوال پر گوتم بمباولے نے کہا کہ انڈیا پاکستان کو خوشحال اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتا ہے اور ہمیں اس مقصد کے حصول کیلئے کی جانے والی کوششوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ کچھ ایسے علاقوں سے بھی گزررہا ہے جن پر پاکستان اور ہندوستان دنوں ہی اپنا حق جتاتے ہیں۔

اس موقع پر کے سی ایف آر کے اکرام سہگل نے کہا کہ ’ہمیں دکھ ہوتا ہے جب انڈین فورسز کشمیروں پر چھرے برساکر ان کی بینائی چھین لیتے ہیں، جب ہندوستانی وزیر اعظم امریکا اور چین کے دورے پر جاتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور انہیں طریقوں سے انڈیا پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

یہ خبر 6 ستمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی