'میرے اندر خطرات مول لینے کی عادت تھی'

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2016

ای میل

ہدایت اللہ
ہدایت اللہ

گاڑی کے شیشے پر بارش کی بوچھاڑ سڑک کے ارگرد پھیلے سرسبز کھیتوں کو واٹر کلر میں ڈوبنے جیسا تاثر دے رہی تھی، یہ ایسا سکون دہ تاثر تھا کہ اسلام آباد واپسی کے اس سفر کے دوران میں آرام سے ٹیک لگائے ان خیالات میں گم تھی جن کا بڑا حصہ گزشتہ تین دنوں کا تھا جو میں نے سوات میں لوگوں کی گرمجوش مہمان نوازی میں گزارے۔

مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں کوئی باتونی سفری ساتھی نہیں، جھے بدلتے منظرناموں سے تنہائی میں لطف اندوز ہونے میں مزہ آتا ہے، مگر خاموشی کے ان وقفوں میں گاڑی کے ڈرائیور ہدایت اللہ کی جانب سے مداخلت ہوتی، جو مجھے ان تمام چیزوں کی تفصیلات سے بھردیتا جو اس کے خیال میں دلچسپ ہوسکتی ہیں۔

اس نے مجھے بتایا " بٹ خیلہ جو کہ ضلع مالاکنڈ کا صدر مقام ہے، میں لمبا ترین بازار ہے، دو کلو میٹر لمبے اس بازار میں کوئی ٹریفک سگنل یا انٹرسیکشن نہیں، یہ جو آپ سڑک کے کنارے اوپن ائیر کار شو رومز دیکھ رہے ہیں، وہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کھڑی ہیں"۔

اس کے بقول " سوات کے سیب دنیا میں سب سے بہترین ہیں، مگر آڑو نے مقبولیت میں اس پر سبقت حاصل کرلی ہے، حالانکہ آڑو کی کاشت کے لیے کیڑے مار ادویات کے لگ بھگ 9 راﺅنڈ اسپرے ہوتے ہیں"، اور ایسے ہی بہت سے موضوعات۔

اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ 12 بار چین جا چکا ہے، اکثر اوقات میں نے سوچا اور تجسس بھی ہوا کہ اس کی وجہ جانوں، کیا اس کی وجہ پاکستان۔ چین اقتصادی راہداری ہے یا اس کی وجہ وہ ادارہ ہے جس کے لیے وہ کام کرتا ہے، جو مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹس پر کام کررہا ہے، جس کے لیے چینی مہارت کی ضرورت ہے، جس کے لیے سرحد پار ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟

میرے تمام خیالات غلط تھے، اس کی کہانی اور چین کے دورے 17 سال قبل یعنی 1999 میں ہوئے، جب وہ ایک تاجر تھا اور مینگورہ میں اس کا کاروبار تیزی سے ترقی کررہا تھا۔

56 سالہ ہدایت اللہ، نے انٹرمیڈیٹ کے بعد ایک کارخانے میں اکاﺅنٹنٹ کی حیثیت سے کام شروع کیا، مگر کسی وجہ سے وہ اسے زیادہ چیلنجنگ نہیں لگا اور پندرہ سال کے بعد اس نے اسے خیرباد کہہ کر شہر میں ادویات ساز کمپنیوں کی ادویات کی سپلائی کا اپنا کاروبار شروع کردیا " مجھے جلد احساس ہوا کہ اس کاروبار میں بہت زیادہ مسابقت ہے اور پیسوں کی روانی کچھ زیادہ ہموار نہیں"۔

اس نے اپنے کاروبار کو لپیٹا، دکان کو فروخت کیا اور نئے راستے کو تلاش کرنے لگا، اپنی قسمت آزمانے کے لیے اس نے چین جانے کا فیصلہ کیا۔

خیالات میں گم فخریہ انداز میں مسکراتے ہوئے اس نے بتایا " 1999 میں، میں نے کارخانوں جیسے جیکٹوں سے لے کر گھڑیوں تک، ہر وہ چیزجو میرے خیال میں پاکستانیوں کو پسند آئے گی، براہ راست بڑی تعداد میں اشیاءخریدنا شروع کردیں۔ میں ان اولین افراد میں سے ایک تھا جنھوں نے پاکستانیوں کو فولڈ ایبل مچھر دانیوں سے متعارف کرایا، جو آج بہت زیادہ عام ہیں۔ میں نے مینگورہ میں ایک دکان چائنا ٹاﺅن کے نام سے کھولی، میں نے یہ نام انٹرنیٹ سے لیا تھا جو کہ اپنی اشیاءکی بدولت مشہور ہوئی"۔

زندگی کبھی اتنی اچھی نہ تھی، ہدایت اللہ کو لگا تھا کہ وہ جس چیز کو چھوئے گا، وہ سونا بن جائے گی، اور اس کی بے خوفی نے کاروبار کو ترقی کی جانب گامزن کردیا، وہ خود تسلیم کرتا ہے " میرے اندر خطرات مول لینے کی عادت تھی"۔

مگر پھر طالبان آئے۔

ہدایت اللہ یاد کرتا ہے " یہ 2007 تھا، میں نے چین سے سادہ سی ڈیز خریدیں اور مقامی سی ڈی کی دکانوں کو فروخت کردیں، یہ سوات سمیت پورے خیبرپختونخوا میں فروغ پاتا کاروبار تھا، میں نے موبائل فونز اور ڈی وی ڈیز کے اسپیئر پارٹس میں بھی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا، میں حال ہی میں چین سے لوٹا تھا اور میرے پاس مال کی کھیپ تھی۔ مینگورہ میں پہلے بم دھماکے نے میرے اس گودام کو مکمل طور پر تباہ کردیا جہاں میں نے حال ہی میں خریدے ہوئے اسپیئر پارٹس رکھے تھے، مجھے یہ جان کر بھی دھچکا لگا کہ سی ڈیز کی دکانوں پر طالبان کی جانب سے لگاتار بم دھماکوں کے بعد میری سی ڈیز کا کوئی خریدار نہیں رہا تھا، طالبان نے میوزک شاپس کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ان کے مالکان کو کاروبار بند کرنے کی دھمکی تھی"۔

ایک ہفتے سے بھی کم وقت اور ایک جھٹکے میں ہدایت اللہ ہر چیز سے محروم ہوگیا اور اس کی سرمایہ کاری ضائع ہوگئی۔ وہ شخص جس کے لیے لوگ کام کرتے تھے، اچانک ہی کنگال ہوگیا " میں ایک سال سے زائد عرصے تک روزگار سے محروم رہا"۔

اس کی آواز میں کرب چہرے پر ابھرنے والی اداسی سے مطابقت رکھتی تھی اور پھر اس نے چین کے متعدد دوروں، وہاں جو پکوان کھائے اور جن ہوٹلوں میں رہا، کے بارے میں بتانا شروع کردیا " جب آپ بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو بہت کچھ سیکھتے ہیں"۔

مگر یہ ایک سال آزمائشی عرصہ بھی ثابت ہوا اور وہ موسمی دوستوں کے درمیان سے حقیقی دوستوں کو الگ کرنے کے قابل ہوگیا، ان میں سے ایک جو برے وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا، ہدایت اللہ کی بیوی تھی " اس کی ہماری قسمت کو غیر مشروط طور پر قبول کرنے اور مکمل سپورٹ کے بغیر میں ایک ٹوٹا پھوٹا شخص ہوتا، اس نے سلائی مشین کو نکال کر ہر ممکن طریقے سے مدد کی، میرے بچوں کو کھانا نہ ملتا، مگر بیوی کی مہربانی سے وہ کبھی کھانے سے محروم نہیں رہے، اس نے اس امر کو یقینی بنایا کہ کسی بھی بچے کو اسکول سے نکالنا نہ پڑے"۔

وہ شخص جو کبھی باس ہوتا تھا اور تنخواہیں تقسیم کرتا تھا۔ آج ایک ادارے میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کررہا ہے اور ماہانہ تنخواہ لے رہا ہے، مگر پھر بھی کوئی مایوسی، تلخی کے آثار نظر نہیں آتے اور اسے اپنے حال پر کوئی پچھتاوا نہیں " دولت آتی ہے اور چلی جاتی ہے، مگر میں خوش قسمت ہوں کہ میری صحت اچھی ہے، اگر میں سخت محنت کروں گا، تو اپنی قسمت کو بدلنے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہوں"۔

اور جب بھی اسے دوسرا موقع ملے گا تو ہدایت اللہ پھر چین جائے گا اور اس بار اس کی توجہ سولر انرجی پر مرکوز ہوگی، یعنی وہ سورج کی طاقت سے چلنے والے سولر پینلز کی خرید و فروخت کرے گا " جیسے لیمپس اور پاور بینکس وغیرہ"۔

اور جب اچھے دن واپس آئیں گے تو جو پہلی چیز اس کی خواہش ہے وہ ہے حج پر جانا " اگر میرا ایک پچھتاوا ہو تو وہ یہ ہے میں روزمرہ کے کاموں اور دولت کمانے میں اتنا مصروف ہوگیا کہ میں اللہ کے لیے اپنے فرض کو بھول گیا"۔

اس کا کہنا تھا " میرے اندر اچھا کاروباری فہم ہے، لوگوں سے تعلق بنانے کی صلاحیتیں بھی اچھی ہیں اور میں چینی زبان بھی جانتا ہوں"۔

وہ ملک کے طول و عرض سفر کرتا ہے اور اگر وہ کبھی گم بھی ہوجائے تو وہ اپنا راستہ تلاش کرسکتا ہے " میں راستوں کو ہاتھ کی لکیروں کی طرح جانتا ہوں"۔


یہ مضمون 11 ستمبر کو ڈان سنڈے میگزین میں شائع ہوا۔