پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2016

ای میل

لاہور: پنجاب پولیس نے دفعہ 144 کے نام پر صوبے بھر میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔

پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)، پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان مسلم لیگ ق کے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔

مظاہرین کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے پولیس نے دریائے سندھ، ستلج اور چناب پر بنے پل اور شہروں کو آپس میں ملانے والی شاہراہوں کو کنٹینرز لگاکر بلاک کردیا۔

مظفر گڑھ کے قریب چناب پل، ملتان میں ہیڈ محمد والا، علی پور میں ہیڈ پنجناد ، تونسہ کے قریب غازی گھاٹ اور لودھراں کے قریب بہاولپور ملتان پل کو کنٹینرز لگاکر بلاک کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کارکنوں کی گرفتاری : ’سپریم کورٹ از خود نوٹس لے‘

ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ ، لیہ، بہاولپور، ملتان، ساہیوال اور لاہور میں پولیس کی جانب سے بس اڈوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور بسوں اور ویگنز کو قبضے میں لیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ صوبے بھر کی اہم شاہراہوں پر چیک پوسٹ قائم کردیے گئے ہیں جہاں پولیس بسوں کو چیک کررہی ہے اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے۔

پولیس مذکورہ تینوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے گھروں پر بھی چھاپے ماررہی ہے تاکہ انہیں اسلام آباد پہنچنے سے روکا جاسکے۔

ان تینوں جماعتوں کے سیکڑوں کارکنوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا جاچکا ہے جو صوبے بھر میں 30 اکتوبر سے 8 نومبر تک کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

ملتان میں پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شاہد محمود خان کو ان کے گھر سے حراست میں لیا جبکہ بعض یونین کونسل چیئرمین اور سیکڑوں سیاسی کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس نے رکن اسمبلی عامر ڈوگر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: ’پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی سے 5کلاشنکوف برآمد’

اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے ڈان کو بتایا کہ پولیس صوبے بھر میں چھاپے ماررہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں پر16 ایم پی او کے تحت مقدمات قائم کیے جارہے ہیں جو غیر قانونی ہے اور اس بات کا عکاس ہے کہ نواز اور شہباز شریف آمروں کی طرح کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی اور حکومت کی آمرانہ سوچ کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں دفعہ 144 کے نفاذ کو بھی چیلنج کریں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی مشیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ حکومت کنفیوژن کا شکار ہے تاہم گرفتاریوں اور پولیس تشدد سے پارٹی کارکنوں کو 2 نومبر کو اسلام آباد پہنچنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

علاوہ ازیں پولیس نے ق لیگ کے سینیٹر کامل علی آغا کے داتا نگر میں موجود گھر پر بھی چھاپہ مارا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

انہوں نے پنجاب حکومت کے اس غیر قانونی عمل کی شدید مذمت کی۔

یہ خبر 31 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی