کارکنوں کی گرفتاری : ’سپریم کورٹ از خود نوٹس لے‘

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بنی گالہ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کارکنوں کی گرفتاریوں پر سپریم کورٹ از خود نوٹس لے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ گرفتاریاں نہیں بلکہ اغواء ہے، لوگوں کے جمہوری حقوق پر ڈاکہ مارا جارہا ہے ، لوگوں کو گھروں سے کس قانون کے تحت اٹھایا گیا‘؟

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ ’انہیں نہ جمہوریت سمجھ آئی نہ وہ سمجھنا چاہتے ہیں‘۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ان کے لیے جمہوریت یہ ہے کہ دھاندلی کرو، اقتدار میں آؤ، ملک کو لوٹو، پیسہ بناؤ، پیسہ باہر بھیجو، کیوں کہ ان کے بچے باہر بیٹھے ہیں اور کاروبار بھی باہر ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو طلب کرلیا

انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی کرپشن پر بات کریں تو کہتے ہیں کہ جمہوریت، سی پیک اور ترقی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کس آمر نے اتنا ظلم کیا جتنا یہ حکومت کررہی ہے، لوگوں کے گھروں کے دروازے توڑ کر انہیں اٹھایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم نے رائے ونڈ میں دھرنا دیا تو وہ وزیر اعظم کے گھر سے 5 کلو میٹر دور تھا لیکن انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر پر حملہ کرنے آرہے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’آصف زرداری منافق نہیں تھے، انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ قوم کا پیسہ واپس لائینگے، لیکن یہ دونوں بھائی منافق ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ نیب اور ایف بی آر میں اپنی مرضی کے سربراہ تعینات کیے تاکہ وہ انہیں پکڑ نہ سکیں، انہوں نے ملک کے ادارے اور اخلاقیات تباہ کیے۔

عمران خان نے نواز شریف کا نام لیتے ہوئے اشارہ دیا کہ ’2018 بہت دور ہے، اس سے پہلے بہت کچھ ہونے والا ہے‘۔

مزید پڑھیں: 'کیا عدلیہ صرف طاقت والوں کے ساتھ ہے'

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن تیاری کریں، ہم سب مل کر ان کے خلاف لڑیں گے، پرویز خٹک کے پی کے سے لوگوں کو لے کر آرہے ہیں اور وہ اس پولیس کا حصار توڑ کر آئیں گے کیوں کہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ یہ عدلیہ کا ٹرائل ہے، جمہوریت کا دفاع عدلیہ کرتی ہے، شکر ہے کہ جھوٹی جمہوریت سب کے سامنے ننگی ہوگئی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر پرویز مشرف کی آمریت تو زیادہ بہتر تھی۔

عمران خان نے بنی گالہ کے باہر موجود کارکنوں سے ملاقات کی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر انہوں نے ہمیں جیلوں میں ڈالا تو باہر نکل کر پھر سڑکوں پر آجائیں گے، میں تیار ہوں جیل جانے کے لیے، پھر نکلیں گے، ہار نہ ماننے والوں کو کوئی ہرا نہیں سکتا‘۔

اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جس دن 10 لاکھ لوگ وہاں پہنچیں گے تو دارالحکومت خود ہی لاک ڈاؤن ہوجائے گا اور اگر حکومت ہمیں روکے گی تو جب بھی رکاوٹ ختم ہوگی ہم دوبارہ باہر نکل آئیں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں لگایا تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ کیا ہوتا ہے، حکومت ایسا کرکے اپنا خاتمہ مزید نزدیک کرلے گی۔

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے حوالے سے کیس کی سماعت سے متعلق عمران خان نے کہا کہ یکم نومبر کو میرا سپریم کورٹ جانے کا ارادہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کارکن جیسے بھی ممکن ہو بنی گالہ پہنچیں جہاں سے 2 نومبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

بنی گالہ کے قریب شیریں مزاری کی پھر پولیس سے جھڑپ

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو ایک بار پھر پولیس اہلکاروں نے بنی گالہ کے قریب عمران خان چوک پر لگے ناکے پر روک دیا اور ان کی گاڑی کو عمران خان کی رہائش گاہ کی جانب جانے نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں خاتون صحافی کی گاڑی میں بنی گالہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چوہدری نثار ایک طرف کہتے ہیں کہ میں نے ہدایات دی ہیں کہ وکلاء، صحافیوں اور خواتین کو تنگ نہ کریں، وزیر داخلہ دیکھ لیں پولیس ہمیں تنگ کررہی ہے‘۔

شیریں مزاری نے کہا کہ کس قانون کے تحت ہمیں روکا جارہا ہے، اپنے لیڈر سے ملنا ہمارا حق ہے، ہم بھی روز بنی گالہ آئیں گے، دیکھتے ہیں حکومت ہمیں کتنا روکتی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ’مرد و خواتین پولیس اہلکاروں نے کشتی لڑنے کی کوشش کی، ڈرائیور کو نکال کر گاڑی کی چابی لے لی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’پھر ہم نے پیدل جانے کی کوشش کی تو پھر ہمیں روک لیا گیا، ہم نے ان سے کہا کہ کم از کم ہائی کورٹ کا حکم تو پڑھ لیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یا تو چوہدری نثار اپنی پولیس کو سمجھائیں یا پھر ٹی وی پر آکر جھوٹ نہ بولیں۔

گزشتہ روز بھی شیریں مزاری کو بنی گالہ جاتے ہوئے پولیس نے روکنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ رکاوٹیں ہٹا کر بنی گالہ پہنچ گئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی سے 5کلاشنکوف برآمد’

اسلام آباد نواز شریف کے چندے پر نہیں چلتا

پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے بنی گالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو واضح ہوچکا ہے کون جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جمہوریت کو کھوکلا کررہا ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام وزیر اعظم نواز شریف کے چندے پر نہیں چلتا،ہم حکومت کی طرح ایک طرفہ فیصلہ کرکے ڈنڈے نہیں چلاتے اور نہ ہی لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک صوبے کو ملک کے باقی حصوں سے کاٹنا وفاق کا کام ہے؟اگر خیبر پختونخوا کے عوام اپنا آئینی حق استعمال کرکے دارالحکومت آنا چاہتے ہیں تو اس سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعلقات کیسے خراب ہوسکتے ہیں؟

اگر حکومت آئین اور قانون کے درمیان رہتے ہوئے فیصلے کرے گی تو کوئی تصادم پیدا نہیں ہوگا، یہ پہلی بار نہیں ہوا جب اسلام آباد میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آرہے ہوں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں پریڈ گراؤنڈ پر احتجاج کرنے والا فیصلہ پسند ہے یا نہیں ہم اس کا قانونی جواب عدالت میں دیں گے‘۔

ادھر چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے بنی گالہ کی جانب سفر کی تیاریاں شروع کردیں جبکہ انہیں روکنے کے لیے پولیس بھی چوکس ہے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق رکاوٹوں اور گرفتاریوں سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کے کارکنوں نے حکمت عملی تیارکرلی۔

خیبرپختونخواکے تمام اضلاع سے کارکن صوابی میں جمع ہوں گے جہاں سے بڑے قافلے کی شکل میں شہراقتدارکارخ کیاجائےگا۔

کارکنوں سے نمٹنے کے لیے تیار پولیس اہلکار—فوٹو / ڈان نیوز
کارکنوں سے نمٹنے کے لیے تیار پولیس اہلکار—فوٹو / ڈان نیوز

پولیس کی جانب سے کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے سے روکنے کاسلسلہ بھی بدستورجاری ہے، پی ٹی آئی پنجاب کےدو ارکان اسمبلی کوکپتان کے پاس جانے سے روک دیاگیا جس پرانہوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ حکومت لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کررہی ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ رکاوٹوں کوپروا کئے بغیرکسی بھی قیمت پربنی گالہ پہنچیں گے کیونکہ قربانی کے بغیرحکومت سے نجات ممکن نہیں۔

دوسری جانب وہ کارکن جو پہلے ہی بنی گالہ پہنچ گئے تھے انہوں نے تیسری رات بھی شدید ٹھنڈ میں کھلے آسمان تلے ہی گزاری جبکہ صبح ہوتے ہی کارکنوں کے ناشتے کی تیاریاں شروع کردی گئیں جس کے بعد انہوں نے تگڑا ناشتہ کیا۔

کارکنوں نے سردی سے بچنے کے لیے کمبل اور چادروں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے جبکہ خود کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے ہر صبح اٹھ کر ورزش بھی کرتے ہیں۔

ادھر کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے سے روکنے کے لیے پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کررکھی ہے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری کو بھی تیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: ’مجرم وزیر اعظم کو بچانے کے لیے ریاستی مشینری استعمال ہورہی ہے‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پولیس نے بنی گالہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا تھا اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی جبکہ 150 سے زائد کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔

پولیس نے پشاور موٹر وے اور دیگر مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں—فوٹو / ڈان نیوز
پولیس نے پشاور موٹر وے اور دیگر مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں—فوٹو / ڈان نیوز

ڈان نیوز کے مطابق پنجاب پولیس نے اوکاڑہ، خانیوال، گڑھی شاہو، فیصل آباد، لاہور،گجرات، بہاولپور, سیالکوٹ، ساہیوال، شیخوپورہ، بھکر، لودھراں، مظفر گڑھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ملتان سمیت دیگر شہروں سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے مسعود شفقت ربھیرہ، ق لیگ کے رہنما سلیم چٹھہ، اداکار کاشف محمود، صدر پی ٹی آئی یوتھ ونگ رضوان شاہ، سابق ضلعی صدر ڈاکٹر نثار، پنجاب انٹرفیئر ہارمنی کے وائس چیئرمین نوید اختر خان، پی ٹی آئی کے ضلعی صدر ڈاکٹر شیر محمد اعوان اور چئیرمین حاجی پورہ یونین کونسل سمیت سیکڑوں کارکنوں اور عہدیداروں کو گرفتار کیا تھا۔

اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس نے فیض آباد ناکے پر ڈنڈوں سے بھرا ٹرک پکڑنے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور اس میں سوار 6 افراد کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ راولپنڈی میں ویسٹریج پولیس چھاپے میں کسی کو گرفتار نہ کر سکی تھی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ماہ محرم میں عاشورہ تک کا وقت دیا تھا جس کے بعد انھوں نے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔

تاہم عدالت میں پاناما لیکس کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے باوجود دونوں جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

پی ٹی آئی نے بظاہر حکومت کو موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ وہ پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر سے قبل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے قانون کو منظوری کرلے۔