ترک صدر کا پاکستان پہنچنے پر پرتپاک استقبال

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2016

ای میل

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: ترک صدر رجب طیب اردگان 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔

اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے معزز مہمان کا استقبال کیا، جبکہ خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

اسلام آباد پہنچنے پر ترک صدر کو گلدستے پیش کیے گئے، جبکہ خاتون اول بھی ترک صدر کے ہمراہ آئی ہیں۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

رجب طیب اردگان کے وفد میں ترک وزرا اور اعلیٰ حکام کے علاوہ تاجر بھی شامل ہیں۔

واضح رہے صدر ممنون حسین کی دعوت پر ترک ہم منصب پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، وہ جمعرات (کل) کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

دورے کے دوران وہ اپنے ہم منصب اور وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں اہم علاقائی، عالمی اور تجارتی امور زیر غور آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان چھوڑنے کے حکم پر ترک اساتذہ کا عدالت سے رجوع

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب اردگان کی پاکستان آمد کے موقع پر وزارت داخلہ نے پاک ترک اسکولز اور کالجز کے ترک عملے کو 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا تھا کہ اس تعلیمی نیٹ ورک کے عملے کے ویزے منسوخ کردیئے گئے ہیں اور اتوار 13 نومبر کو انہیں خطوط بھی بھیجے گئے جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے صرف ایک ہفتے کا وقت ہے۔

بعد ازاں وزارت داخلہ کے یہ احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیئے گئے۔

پاک ترک اسکولز کے چیئرمین عالمگیر خان سمیت 3 اساتذہ نے تین دن میں ملک چھوڑنے اور وجہ بتائے بغیر ویزوں میں توسیع نہ دینے کا حکم عدالت عالیہ میں چیلنج کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاک ترک اسکولز کے عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم

درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 'وزارت داخلہ نے ترک اساتذہ کو وجہ بتائے بغیر ویزوں میں توسیع سے انکارکر دیا جبکہ 22 جون کو ویزہ میں توسیع کی درخواست دی گئی تھی جسے 11 نومبر کو وجہ بتائے بغیر مسترد کر دیا گیا'۔

یاد رہے کہ رواں برس اگست میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد اسلام آباد نے پاکستان کا دورہ کرنے والے ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاک ترک اسکولز کے معاملے پر غور کرے گا جسے ترکی نے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن سے روابط کا الزام عائد کرکے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ترک اسکولز غیر یقینی صورتحال سے دوچار

پاک ترک اسکولز اور کالجز کے نیٹ ورک کا قیام 1995 میں اس غیر ملی این جی او کے تحت عمل میں آیا تھا جو ترکی میں رجسٹرڈ تھی۔

اسکولز اور کالجز کا یہ نیٹ ورک لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، کراچی، حیدرآباد، خیرپور، جامشورو اور کوئٹہ میں پھیلا ہوا ہے۔