صحرائے اعظم میں 37 سال بعد برفباری

شائع December 22, 2016 اپ ڈیٹ December 22, 2016 01:39pm
فوٹو بشکریہ/ بورڈ پانڈا
فوٹو بشکریہ/ بورڈ پانڈا

صحرائے اعظم یا صحارا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے اور یہ خشک ترین ہونے کے ساتھ ساتھ گرم ترین بھی ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ یہاں پانی کے بغیر کچھ دن گزارنا بھی ممکن نہیں۔

تو یہ دنیا کا وہ آخری مقام ہوسکتا ہے جہاں آپ برف کو دریافت کرنے کا سوچ سکتے ہیں کیونکہ یہاں کا سردیوں کا اوسط درجہ حرارت ہی 30 سینٹی گریڈ ہے۔

مگر قدرت کے کرشمے سے کون انکار کرسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس صحرا کا کچھ حصہ غیر متوقع طور پر سفید ہوگیا۔

فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا
فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا

جی ہاں یہاں 37 سال بعد پہلی دفعہ برفباری ہوئی جس کے منظر کو ایک شوقیہ فوٹو گرافر کریم بخاطربویشیتاتا نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا۔

الجزائر کے چھوٹے سے صحرائی قصبے این صفارا کے باسیوں کو صبح اٹھنے کے بعد علم ہوا تھا کہ ان کے ارگرد پھیلے سرخ ریتیلے ٹیلے اچانک سفید ہوگئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا
فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا

فوٹو گرافر کے مطابق 'ہر ایک یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ صحرا میں برفباری ہورہی ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور یہ دیکھنا حیران کن تھا کہ برف ریت کے اوپر ٹھہری ہوئی ہے اور اس نے فوٹوگرافی کے لیے اچھا منظر بنادیا.

فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا
فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا

یہ برف ایک دن تک ریت پر موجود رہی اور اس کے بعد پگھل گئی۔

ایسا تاریخ میں محض دوسری بار ہوا ہے کہ صحرائے اعظم میں برفباری ہوئی ہے۔

پہلی بار فروری 1979 میں الجزائر میں ہی ایسا ہوا تھا۔

فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا
فوٹو بشکریہ بورڈ پانڈا

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026