صوبہ پنجاب اور سندھ میں ٹیکسی سروس ’کریم‘ اور ’اوبر‘ کے خلاف کارروائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا جس کا انہوں نے سوشل میڈیا پر برملا اظہار کیا۔

کریم اور اوبر کو پاکستان کے شہری علاقوں میں عوام کی بڑی تعداد استعمال کرتی ہے اور یہ ان کے سفر کا آسان اور حفاظت کے ساتھ کم خرچ ذریعہ بھی ہے، جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب پنجاب اور سندھ میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تو لوگوں کی بڑی تعداد نے ٹوئٹر کا رخ کیا اور صوبائی حکومتوں کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں کریم اور اوبر سروسز کے خلاف کارروائی شروع

کئی لوگوں نے اپنے تجربات شیئر کیے کہ کیسے کریم اور اوبر نے ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی۔

کچھ لوگوں نے اسے حکومت کا دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کریم اور اوبر پر اس لیے پابندی لگائی گئی کیونکہ یہ حفاظتی سفری سہولت فراہم کر رہی تھی جو حکومت کو پسند نہیں آئی۔

عوام کے ایک حصے کو اس میں سازش کی بو آئی۔

بعض لوگوں نے تنقید کے لیے طنز کا سہارا لیا۔

کچھ لوگوں کو اپنے ’بیلنس‘ کی فکر ستاتی رہی۔

چند لوگوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اچھی چیزیں کیوں راس نہیں آتی۔

ٹی وی شخصیات نے بھی حکومت پر تنقید کی۔