اسلام آباد: پاکستان نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 180 ارب روپے مالیت کے 2 ٹھیکے چینی کمپنی کو دے دیئے۔

چائنا گیزوبا گروپ کمپنی (سی جی جی سی) کو دئیے جانے والے ٹھیکوں میں 115 ارب روپے مالیت کا ڈیم کے ڈھانچے سے متعلق سامان کی تیاری اور ہائیڈرالک اسٹیل اسٹرکچر (ایم ڈبلیو01) کی تعمیر جبکہ 64 ارب روپے مالیت کا زیر زمین پاور کمپلیکس تیار کرنے، سرنگیں بنانے اور ہائیڈرالک اسٹرکچر (ایم ڈبلیو 02) کے منصوبے شامل ہیں۔

ٹھیکے دیئے جانے کے معاہدے پر واٹر اینڈ پاورڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور سی جی جی سی کی جانب سے دستخط کیے گئے۔

داسو ڈیم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر جاوید اختر اور سی جی جی سی کے نمائندے تان بکشان نے دونوں کمپنیوں کی جانب سے معاہدوں پر دستخط کیے، جب کہ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔

معاہدے کے تحت منصوبے کا پہلامرحلہ 2021 میں مکمل ہوجائے گا، جس کے تحت 2160 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔

واضح رہے کہ چینی گروپ کو پری کوالیفائڈ چینی فرمز کے درمیان بین القوامی مسابقتی بولی کے ذریعے ٹھیکے کے لیے منتخب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: داسو منصوبے کو فوقیت دینے کا فیصلہ

معاہدے پر دستخط کیے جانے کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا کہ اب سستی بجلی پیدا کرنے کے نئے دور کا آغاز ہوگا، انھوں نے بتایا کہ حکومت داسو کے علاوہ رواں برس مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کا بھی سنگ بنیاد رکھے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 2013 کے بعد لوڈشیڈنگ میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہوئی، جب کہ حالیہ حکومت 2018 تک مزید 10 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو یقینی بنائے گی، جس سے بجلی کی طلب اور رسد میں 5 ہزار میگاواٹ کے فرق کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بتایا کہ 2018 تک نہ صرف بجلی کی پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی اس قابل ہوجائے گا کہ صارفین کو اضافی بجلی فراہم کی جاسکے۔

اس موقع پر واپڈا چیئرمین لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید مزمل حسین نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت کا کل تخمینہ 4 ارب 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس سے 4 سے 5 سال کے درمیان 2160 میگا واٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی، پہلے مرحلے میں ڈیم کی تعمیر سمیت پاور ہاؤس کے 6 یونٹس کی تعمیر کی جائے گی۔

انھوں نے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا کیوں کہ 4 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ یہ 21 ارب سے زائد بجلی یونٹ پیدا کر سکے گا، جب کہ اس کی پیداواری صلاحیت تربیلا ڈیم کی موجودہ صلاحیت سے 7 سے 8 ارب یونٹس زیادہ ہوگی۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک کی داسو ڈیم کے لیے متفقہ منظوری

سید مزمل حسین کا کہنا تھا کہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں بھی 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوگا اور مرکزی ڈیم تعمیر ہوجانے اور پہلے مرحلے کی تکیمل کے بعد دوسرا مرحلہ زیادہ وقت نہیں لے گا، جب کہ دوسرے مرحلے میں صرف پاور ہاؤس کی تعمیر کی جائے گی، جس کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ حکومت کم لاگت والے پن بجلی گھروں کے ذرائع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے، جب کہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے اورعوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے داسو منصوبہ حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

خیال رہے کہ 4 ہزار 320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ واپڈا کی جانب سے دریائے سندھ کے اَپ اسٹریم پر خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کے ٹاؤن داسو کے قریب بنا یا جا رہا ہے۔

منصوبے کو دو مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا، ہر مرحلے کی تکمیل کے بعد داسو ہائیڈرو پاور 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم کیلئے زمین خریدنے کی منظوری

حکومت پاکستان کی ضمانت پر تیار ہونے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے کچھ فنڈز عالمی بینک نے فراہم کیے ہیں، جب کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے زیادہ تر رقم واپڈا کی جانب سے ادا کی جائے گی، جو اس نے اپنے ذرائع سے حاصل کی ہے۔

داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا پہلا مرحلے تقریباً 5 سال کے اندر مکمل ہوگا، جس کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹس بجلی فراہم کر پائے گا، جب کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ سالانہ مزید 9 ارب یونٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔


یہ خبر 9 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی