مجھے میزوری اسٹیٹ یونیورسٹی میں "عالمی دہشتگردی کے دور میں زندگی، آزادی اور خوشیوں کی تلاش" کے موضوع پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ میزوری ٹرمپ کی ریاست ہے — ٹرمپ کو یہاں سے 70 فیصد اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ میرے لیکچر کے کچھ اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

انگریزی میں اس موضوع کے ابتدائی سات لفظوں کا تعلق برطانیہ کی جانب سے دیے جانے والے 1776 ڈکلیریشن آف انڈیپنڈینس یا اعلانِ خودمختیاری کے ہیں، جس میں درج ہے کہ، "ہم ان حقیقتوں کو خود عیاں سمجھتے ہیں، کہ تمام انسان مساوی پیدا ہوئے، اور انہیں خدا کی طرف سے چند ناگزیر حقوق حاصل ہوئے، ان میں زندگی، آزادی اور خوشیوں کی جستجو کا حق شامل ہیں۔"

امریکا کے بانیوں نے مساوات انسانی کے ان خیالات کو یورپ کی اس دور میں ابلتی ہوئی روشن خیالی سے متاثر ہو کر اختیار کیا تھا۔ تمامس جیفرسن کا جملہ کہ "تمام انسان مساوی پیدا ہوئے" شاید انگریزی زبان کا ایک مقبول ترین اور گہرا جملہ ہے۔

مگر وہ حقائق جن کے لیے کبھی امریکیوں کو کوئی دلیل درکار نہیں تھی مگر آج کئی لوگوں کے لیے اب یہ حقیقتیں عیاں نہیں رہی ہیں۔ انہوں نے ایک صدر منتخب کیا جو انسانوں کی برابری سے زیادہ انسانوں کے درمیان فرق کو فوقیت دیتا ہے۔ اگر امریکا کی عدالتی نظام اس کے امریکی سرزمین پر مسلمانوں کے آنے پر پابندی کے متعلق ایگزیکیٹو حکم نامے کو مسترد نہ کرتا تو میں یہاں آ کر لیکچر بھی نہ دے پاتا۔

یورپ— جہاں سے روشن خیالی کا آغاز ہوا تھا— میں آج میری لے پین اور گیرٹ ولڈرز جیسے امتیازی سوچ رکھنے والے ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس تمام تر معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

چند افراد اس کی وجہ مسلمانوں کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ آپ کو خوف کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ دہشتگردی دہشت پیدا کرتی ہے۔ جنونی انتہا پسند جہازوں کو بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا دیتے ہیں یا پھر لوگوں کی جمع بھیڑ پر ٹرک چلا دیتے ہیں جو لوگوں میں شدید خوف کا باعث بنتا ہے۔ مگر کس قدر اس خطرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اور ایسے حیوان صفت افراد آخر آئے کہاں سے؟

حقیقتاً، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ شدت پسندی کے رجحان کو ترتیب دینے یا بڑھاوا دینے کا دارومدار دراصل سیاسی حالات پر ہوتا ہے۔ موجودہ منظم دہشتگرد گروہوں کا ایک بڑا اہم حصہ، اگرچہ سب نہیں، امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر رنالڈ ریگن کو ’ایول ایمپائر’ یا بدی کی سلطنت سے تکلیف نہ ہوتی تو نہ طالبان ہوتے اور نہ ہی القاعدہ، اور وہ جارج ڈبلیو بش کی عراق پر مجرمانہ چڑھائی ہی تھی جو داعش کے بننے کا باعث بنی۔

پھر بھی دہشتگرد جب تک کہ جوہری ہتھیار اپنے قبضے میں نہیں کر لیتے— انسانی وجود کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ دہشتگردی کے متاثرین کی تعداد، جنگوں، ٹریفک حادثات، جنونی افراد کے قنل عام وغیرہ کے مقابلے میں کم ہے۔ تنہا دہشتگردی ہی یہ واضح نہیں کرتی کہ کیوں امریکا اپنے زبردست روشن خیالی کے مثالی اصولوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔

اصل وجوہات میں سے ایک اقتصادی عدم برابری بھی ہے۔ انسانی برابری کو تسلیم کرنا ایک بات ہے، مگر اس اصول کا اطلاق اور تحفظ دوسری۔ جب دولت اور طاقت میں فرق غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو بڑے بڑے دعوے یا اعلانات بھی اپنی معنی کھو بیٹھتے ہیں۔

مثلاً: ایک مشہور اردو شعر کے مطابق، محمود (سلطان) اور ایاز (غلام) جب ایک ہی صف میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے پر جادوئی انداز میں برابر ہو جاتے ہیں۔ مگر کیا سعودی بادشاہ سلمان السعود — جو 505 ٹن بھاری قیمتی سامان کے ساتھ انڈونیشیا کے دورے سے واپس لوٹے ہیں — اور جاوا کا مسلمان غلام برابر ہو سکتے ہیں، بھلے ہی اگر غریب بندہ کسی طرح بادشاہ کے ساتھ ایک ہی صف میں نماز پڑھنے ساتھ کھڑا بھی ہو جائے؟

امریکا کو بھی ایسی ہی ایک بے معنیٰ صورتحال کا سامنا ہے۔ آمدن میں شدید عدم برابری امریکا کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور شہریوں کے لیے ایک مہذہب زندگی گزارنا اس سے پہلے اتنا مشکل نہ تھا۔ امریکی سی ای اوز کو 7 ہندوسوں والی تنخواہیں ملتی ہیں، ورکرز کو صرف 5 ہندسوں کی۔

یونیورسٹی تعلیم معاشرے کے امیر طبقات تک ہی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ 40 برس قبل بوسٹن میں قیام کے دوران میں ہفتہ وار اوسط 20 گھنٹے معمولی مزدوری سے اپنی یونیورسٹی تعلیم کا قریب نصف خرچہ پورا کر لیتا تھا۔ آج اتنے ہی گھنٹے کام کرنے کے بعد خرچے کا آٹھواں حصہ بھی پورا نہیں ہوگا۔

عوام میں غم و غصے کی شدید لہر کا باعث دہشت گردی نہیں بلکہ درحقیقت امریکا کی عالمی دوڑ میں کمزور ہوتی گرفت ہے۔ گلوبل انویسٹمنٹ فرم (جی ایم او) یا ادارہ برائے عالمی سرمایہ کاری بھی اسی کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے حال ہی میں اس پورے معاملے پر اعداد و شمار کے ساتھ جامع تحقیق کی۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کس طرح نیو لبرل اقتصادی پالیسیاں امریکا کو تباہی کی جانب لے جا رہی ہیں۔

1970 کی دہائی سے ابھرنے والی، نیو لبرل ازم کی چار اہم اقتصادی خصوصیات ہیں: پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لیے کل وقتی ملازمت کا ختم کرنا جبکہ مہنگائی کے اہداف کے ساتھ اس کا موازنہ شامل ہے ؛ افراد کے ساتھ ساتھ سرمایہ اور تجارت کے بہاؤ کی عالمگیریت میں اضافہ کرنا؛ ادارے کی سطح پر شیئر ہولڈر کی قدر کو دوبارہ سرمایہ کاری میں لگانے اور ترقی کے بجائے شیئر ہولڈر قدر کی شرح بڑھانا؛ جبکہ صلح جو مزدور مارکیٹوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی یونین اور مزدوروں کی تنظیموں کا خاتمہ کرنا۔

نتیجہ: امریکا تیزی کے ساتھ ایک غیر مساوی معاشرہ بنتا گیا۔ فوربس کے مطابق، 400 امیر ترین امریکیوں کی کل مالیت 2013 میں 2 ٹریلین سے بڑھ کر 2016 میں 2.4 ٹریلین ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں موجود ایک فیصد امیر ترین افراد اب باقی 90 فیصد سے بھی زیادہ دولت کے مالک ہیں۔ غصے کا شکار عوام ان زہر اگلتے نام نہاد عوامی رہنماؤں کے لیے خطرہ ہیں، جو ہر کسی پر الزام ڈالتے ہیں— جن میں چین، میکسیکو کے باشندے اور مسلمانوں شامل ہیں۔

یہ صورتحال صرف بد سے بدتر کی جانب گامزن ہے کیونکہ امریکی اجارہ داری کے دن بھی جا چکے ہیں، جو عالمی معاشی غلبے کی وجہ سے قائم تھی۔ جب بحران کا خطرہ بڑھتا ہے تو ہر جگہ لوگ اپنے محفوظ ٹھکانوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایک بار پھر، جدید قبائلی نظام، جارح قوم پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی پر کشش بن گئے ہیں۔ مگر یہ سب صرف تسلی تو دے سکتے ہیں، مگر مستقل حل نہیں ہو سکتے۔

اگر امریکا اپنے آئین کی پاسداری میں ناکام ہوا تو یہ المناک بات ہوگی۔ کئی ممالک ہیں جو باضابطہ طور پر بھی شہریوں کی برابری کو تسلیم نہیں کرتے، اور کئی زیادہ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی امتیاز کا دعوی نہ کرتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے لوگوں کے درمیان امتیاز رکھتے ہیں۔

آئین پاکستان کھلے طور پر مسلم و غیر مسلم کے درمیان فرق کرتا ہے، ایران باضابطہ طور پر ولایت فقیہ اختیار کیا ہوا ہے، سعودی عرب سوائے مساجد کے اپنی زمین پر اور کوئی دوسری عبادت گاہ تعمیر کرنے نہیں دیتا۔

اگرچہ اسرائیل اپنے مذہبی اور سیکولر قوتوں کے درمیان تنازع کی وجہ سے آئین سے محروم ہے، قانونی طور پر، اور عملاً بھی، یہ ملک یہودیوں کو غیر یہودیوں پر فوقیت دیتا ہے۔ اور ہندوستان، جو کہ کبھی سیکولرازم کا پاسدار تھا، اب ایک 'ریاست برائے ہندو اور حاکم ریاست بھی ہندو' میں تبدیل ہو رہا ہے۔

فرسودہ نظاموں کو دوبارہ اپنا کر کس طرح انسانی بقا کو تحفظ دیا جا سکتا ہے؟ کوئی بھی جادوئی قوت تاریخ کو نہیں موڑتی؛ صرف انسانی مخلوق ہی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لیے ہمیں خود کو اپنے مروج ماحول سے ہٹ کر تعلیم دینی ہوگی، تنقیدی سوچ اختیار کرنی ہوگی، اور علم کا ذخیرہ وسیع سے وسیع تر کرنا ہوگا، اور سب سے اہم، رحمدل مزاج اپنانا ہوگا۔

عالمی انسان دوستی، عالمی شہریت اپنانے کے لیے اور روشن خیالی کے جذبات کے لیے جدوجہد کرنا ہی دنیا کے پاس واحد آپشن ہے جہاں سرحدیں زیادہ معنی نہیں رکھتی ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔