افغانستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد طلب

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2017

ای میل

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے افغانستان کا دورہ کیا—فوٹو: اے ایف پی
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے افغانستان کا دورہ کیا—فوٹو: اے ایف پی

کابل: امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندی اور بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے امریکا پاکستان کی مدد پر انحصار کیے ہوئے ہے۔

دورہ کابل کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان مکین کا کہنا تھا، 'ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں اور حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ہم پاکستان سے تعاون کی امید رکھتے ہیں'۔

امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ 'اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو شاید ہمیں پاکستانی قوم کی طرف اپنا رویہ بدلنا چاہیے'۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹر کا یہ بیان ان کی قیادت میں امریکی سینیٹرز کے وفد کے دورہ اسلام آباد کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جہاں پاکستانی حکام نے انہیں خطے کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’خطے کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان پالیسی کی تشکیل‘

امریکی سینیٹرز کا دورہ اسلام آباد اور کابل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے طالبان کا صفایا کرنے اور افغان فورسز کی حمایت کے لیے مزید فوجیوں کو بھیجے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

جان مکین نے افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ کے لیے فوجیوں کی تعداد سے زیادہ 'جیت کی حکمت عملی' پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دنیا کی سب سے مضبوط قوم کو اس جنگ کو جیتنا چاہیے' جس کے لیے فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو افواج کے نام پر اس وقت 8 ہزار 400 امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جبکہ 4000 مزید فوجیوں کو بھیجے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا،افغانستان میں 4ہزار اضافی فوجی بھیجے گا

امریکی سیکریٹری دفاع جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ ان کی نئی حکمت عملی، جسے رواں ماہ کے آخر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کیا جائے گا، وسیع 'علاقائی' اہمیت کی حامل ہوگی۔

دوسری جانب امریکی صدر نے افغانستان کے معاملے پر غیرمعمولی خاموشی اختیار کیے رکھی تھی، تاہم اس ماہ انہوں نے بالآخر جیمس میٹس کو افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کا اختیار سونپ دیا۔

گذشتہ ہفتے کے دوران نیٹو کی جانب سے بھی افغانستان میں اپنی تعداد میں اضافے کا اعلان سامنے آیا تھا۔

خیال رہے کہ طالبان کی حالیہ کارروائیوں نے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے امریکی اعتماد کو متاثر کیا ہے جبکہ نیٹو افواج کے اضافے سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ اتحادی فورسز دوبارہ ناقابل فتح جنگ میں الجھ جائیں گی۔

تاہم امریکی سیکریٹری دفاع اس حوالے سے کوئی 'ٹائم لائن' مقرر کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے برسلز میں ان کا کہنا تھا کہ 'حرف آخر یہ ہے کہ نیٹو نے افغانستان کو خوف اور دہشت سے آزاد کرنے کا عہد کیا ہے، اسے نامکمل نہیں چھوڑا جاسکتا'۔


یہ خبر 5 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔