پاناما لیکس کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کی خبر کو عالمی میڈیا نے اپنی ویب سائٹس پر خاص جگہ دی۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ مختلف میڈیا اداروں کی ویب سائٹ پر اس خبر کو کس طرح شائع کیا گیا۔

دی گارجیئن

برطانوی اخبار دی گارجیئن کی ویب سائٹ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کو عالمی تناظر میں پیش کرتے ہوئے ایک اخباری تبصرے میں لکھا کہ، پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے دوران کسی بھی وزیر اعظم نے اپنے عہدے کی مدت پوری نہیں کی۔ یہ بھی لکھا کہ اگرچہ پاناما معاملے نے پاکستان کی سیاست میں ایک ہنگامہ کھڑا کیا ہے مگر یہ بڑی حد تک ایک بین الاقوامی معاملہ ہے۔ دی گارجیئن اخبار کے مطابق احتساب کو لیکس پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس بار لیکس نے اپنی اہمیت کو منوایا ہے۔

نیو یارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کے لیے عقیل شاہ نے اپنے مضمون میں نواز شریف کی نااہلی کے حکم نامے کو پاکستان کی عدلیہ کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت نے ایک بڑی ہی خطرناک عدالتی مثال قائم کی ہے، جسے مستقبل میں بڑی آسانی کے ساتھ منتخب رہنماؤں سے اقتدار چھیننے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہندوستان ٹائمز

بھارتی نیوز ویب سائٹ 'ہندوستان ٹائمز' نے اپنی ویب سائٹ پر نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے خبر کی ہیڈلائن میں لکھا، "وزیراعظم پاکستان نواز شریف نااہل قرار: اب کیا ہوگا؟"

خبر کی تفصیلات میں نااہلی کے بعد کی ممکنہ صورتحال پر روشنی ڈالی گئی کہ آیا عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے؟، کیا انتخابات قبل از وقت ہوں گے؟ اور آخر میں یہ کہ کیا فوج دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لے گی؟ جبکہ اسی حوالے سے دوسری خبر کی ہیڈ لائن میں لکھا تھا کہ ممکنہ طور پر عہدے پر نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی لیں گے۔

بی بی سی

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اپنی ویب سائٹ پر شائع خبر میں لکھا کہ پاکستان کے کسی بھی سویلین وزیراعظم نے پانچ سالہ مدت پوری نہیں کی، مزید تفصیلات میں ایک جگہ یہ لکھا گیا کہ "وزارت عظمیٰ کے لیے ابھی تک تو کوئی نام سامنے نہیں آیا لیکن نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو سب سے طاقتور امیدوار دیکھا جا رہا ہے"۔

سی این این

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک عہدے پر موجود وزیراعظم کو عدالتی کارروائی کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے، ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں اقتصادی ترقی ہوئی اور زبردست خارجہ پالیسی کے تحت چین کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہوئے اور سی پیک منصوبہ تشکیل دیا گیا۔

وائس آف امریکا

امریکی خبر رساں ادارے، وائس آف امریکا نے لکھا کہ، نواز شریف کے مطابق انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا جبکہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔

اے ایف پی

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنی خبر میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو عہدے سے نااہل کرتے ہوئے ان کے خلاف مزید تحقیقات کا کام نیب کے سپرد کردیا ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) زیر تفتیش افراد کو گرفتار کرنے اور ان پر فوجداری الزامات عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے کوئی نام واضح نہیں کیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف بطور وزیراعظم اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے، جس کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی۔

پاناما کیس سے نااہلی کے حکم تک

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔