یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ کی بیوی کا جسمانی وزن بڑھ جائے تو اپنی شوگر اکثر چیک کراتے رہیں کیونکہ ایسے شوہروں میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آراہوس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن مردوں کی بیویاں موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں، ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے تاہم موٹاپے کے شکار شوہروں کی بیویوں ایسے خطرے کا سامنا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں : ماں کا موٹاپا بچے میں نقائص کا سبب

تحقیق میں بتایا گیا کہ بیوی کے جسمانی وزن میں ہر 5 کلو گرام اضافے کے ساتھ شوہر میں ذیابیطس کے مرض کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ موٹاپے کی شکار بیوی سے مردوں میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے جس کی وجہ ناقص غذائی عادات اور بہت کم جسمانی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 55 سال سے زائد عمر کے افراد اگر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں تو ان میں موٹاپے کا امکان بھی دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ بیویاں تو شوہروں میں اس مرض کا خطرہ بڑھاتی ہیں مگر موٹے مردوں سے یہ خطرہ شریک حیات کی جانب نہیں بڑھتا، جس کی وجہ فی الحال واضح نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : موٹاپے کو دعوت دینے والی 7 عادتیں

انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان ذیابیطس کے حوالے سے خطرات کی شناخت کرنا اس سے بچاﺅ یا تشخیص میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح جوڑوں کو صحت بخش غذا کے استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی بڑھانا چاہئے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ڈائیبیٹس کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔