’ختم نبوت حلف نامے سے متعلق تبدیلی کے ذمہ دار کو فارغ کردیا جائے گا‘

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2017

ای میل

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی وجہ سے ختمِ نبوت کے حلف نامے سے متعلق شقوں میں تبدیلی کرنے کے ذمہ دار کو برطرف کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران اعلیٰ حکومتی وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اپنے بڑے بھائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تجویز دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے مشیروں سے مشورے نہ لیے جائیں جنہوں نے ماضی میں پارٹی لیڈر کو گمراہ کیا کیونکہ ایسے مشیر صرف اعلیٰ گاڑیاں اور عہدے چاہتے ہیں۔

گذشتہ روز (4 اکتوبر کو) لاہور کے الحمرا ہال میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے ان وفاقی وزراء کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جن کی وجہ سے انتخابی اصلاحات بل 2017 لاگو کرنے کے لیے ختمِ نبوت سے متعلق حلق نامے میں تبدیلی رونما ہوئی۔

مزید پڑھیں: ’مجھے سیاست سے بے دخل کیا جاتا رہا، آپ مجھے داخل کرتے رہے‘

خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس وزیر کو دروازہ دکھا دینا چاہیے جس کی وجہ سے اتنی بڑی کوتاہی رونما ہوئی اور کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ سال منعقد ہونے والے عام انتخابات کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو انتخابی مہم کرنے دی گئی تو وہ کامیاب ہو کر رہے گی۔

شریف برادران نے گذشتہ ماہ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے انتخاب کے بعد آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم شہباز شریف کا اس معاملے میں کہنا تھا کہ ’اگر 2018 کے عام انتخابات شفاف اور منصفانہ طریقے سے ہوئے تو ہم دیکھیں گے کہ اس میں کون کامیاب ہوتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی کے بعد نوازشریف ایک بار پھر مسلم لیگ کے صدر منتخب

حکمراں جماعت نے دعویٰ کیا تھا کہ حلقہ این اے 120 کے دوران ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا گیا تھا اسی طرح جو ووٹر مسلم لیگ کی رسید لے کر پولنگ اسٹیشن پہنچے تھے انہیں پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شریف برادران نے الزام لگایا تھا کہ گذشتہ ماہ 17 ستمبر کو این اے 120 کے ضمنی انتخاب سے قبل کچھ پارٹی کارکنان کو نامعلوم افراد نے اٹھا لیا تھا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کو 15 ہزار ووٹ سے فتح حاصل ہوئی اگر رکاوٹیں حائل نہیں کی جاتیں تو یہ فتح 10 گنا بڑی ہوتی۔


یہ خبر 5 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی