— اے پی فائل فوٹو
— اے پی فائل فوٹو

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بہت تیزی سے سعودی عرب اور دنیا کے چند طاقتور ترین افراد میں سے ایک کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

32 سالہ شہزادے کو سعودی عرب کی فوج، خارجہ پالیسی، معیشت اور روزمرہ کی مذہبی اور ثقافتی زندگی پر اثررسوخ حاصل ہوچکا ہے۔ سعودی ولی عہد کو ہی اس وقت اسلامی مملکت میں جاری کرپشن کے خلاف مہم کا روح رواں سمجھا جارہا ہے اور ان کی ذات میں طاقت کا ایسا اجماع ہوچکا ہے جو کہ سعودی عرب کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع

تو اس طاقتور شہزادے سے ملیں جو معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدلنے جارہے ہیں۔

سعودی ولی عہد کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں، بس یہ معلوم ہوا کہ وہ شاہ سلمان کی تیسری اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے زندگی کا زیادہ وقت والد کے زیرسایہ گزارا ہے۔

اے پی فائل فوٹو
اے پی فائل فوٹو

2015 کے ایک نیویارک ٹائمز کے مضمون میں شہزادہ محمد بن سلمان کے غیرمتوقع عروج کی تفصیلات دی گئی ہیں، جنھوں نے اپنے سے بڑے تین سوتیلے بھائیوں کو پیچھے چھوڑ کر یہ مقام حاصل کیا۔

سعودی ولی عہد کے پاس قانون کی ڈگری ہے جو انہوں نے ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے حاصل کی جبکہ اپنے والد کے لیے کئی طرح کے مشیروں کے کردار ادا کرچکے ہیں۔

انہیں واٹر اسپورٹس جیسے واٹر اسکینگ پسند ہیں جبکہ آئی فونز اور ایپل کی دیگر ڈیوائسز کو استعمال کرتے ہیں، اسی طرح جاپان ان کا پسندیدہ ملک ہے جہاں وہ اپنے ہنی مون پر بھی گئے۔

نیویارک ٹائمز کو سعودی شاہی خاندان کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا ' یہ واضح ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کررہے ہیں، انہیں ہمیشہ اپنے عوامی کردار کے بارے میں فکرمندی رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ تمباکو نوشی اور رات گئے باہر گھومنے سے گریز کرتے ہیں'۔

اے پی فائل فوٹو
اے پی فائل فوٹو

تاہم انہیں مہنگی اشیاءکی خریداری کرنا پسند ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کچھ عرصے پہلے ایک روسی تاجر سے 500 ملین یورو کی یاٹ جنوبی فرانس میں تعطیلات مناتے ہوئے خریدی تھی۔

سعودی ولی عہد جنوری 2015 میں پہلی مرتبہ دنیا بھر کے میڈیا کی شہہ سرخیوں کا اس وقت حصہ بنے جب انہیں شاہ سلمان نے بادشاہت سنبھالنے کے بعد وزیر دفاع مقرر کیا۔

اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی اور اب 32 سال کی عمر میں بھی وہ دنیا کے کم عمر ترین وزیر دفاع ہیں۔

وزیر دفاع کی حیثیت سے وہ سعودی عرب کی حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ کے اہم ترین فریق ہیں، جبکہ کہا جاتا ہے کہ قطر کو الگ تھلک کرنے میں بھی ان کا کردار اہمیت رکھتا ہے۔

وزیر دفاع کے کردار سے ہٹ کر بھی ان کے پاس سعودی عرب کی ریاستی آئل کمپنی سعودی ارامکو کا کنٹرول ہے۔

اے پی فائل فوٹو
اے پی فائل فوٹو

2016 میں انہوں نے طویل المعیاد اقتصادی منصوبے ویژن 2030 کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل سے ختم کرنا ہے۔

حال ہی میں اس منصوبے کے تحت انہوں نے 500 ارب ڈالرز کا شہر نیوم بحیرہ احمر کے کنارے تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اسی طرح وہ اس وقت بھی شہہ سرخیوں کا حصہ بنیں جب انہوں نے بیان دیا کہ سعودی عرب میں اعتدال پسند اسلام کو رائج کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح وہ رواں برس سعودی خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بھی روح رواں قرار دیئے جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اپنے اثررسوخ کو بڑھانے کے ساتھ انہوں نے اپنے ملک کی بیشتر اہم شخصیات کو کونے سے لگادیا ہے۔

پرنس محمد بن نائف ان سے پہلے سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ تھے جنھیں رواں سال جون میں برطرف کیا گیا اور ان کی جگہ شہزادہ محمد بن سلمان نے لی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی فرماں روا نے اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد کردیا

علاوہ ازیں کرپشن کے خلاف مہم کے دوران سعودی عرب کی نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ مطائب بن عبداللہ کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔

اس طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی سیکیورٹی معاملات کے تین ستونوں پر موثر کنٹرول حاصل کرلیا ہے یعنی وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور نیشنل گارڈز، سعودی عرب میں اختیارات کے اجماع کی ایسی مثال کی نظیر اس سے قبل موجود نہیں۔

انہوں نے امریکی انتظامیہ سے بھی اچھے تعلقات قائم کررکھے ہیں اور سابق صدر باراک اوباما نے انہیں اسمارٹ قرار دیا تھا۔

اسی طرح وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے بھی مضبوط تعلق قائم کرچکے ہیں۔

جب شاہ سلمان کا انتقال ہوگا تو سعودی ولی عہد ایسے بادشاہ کے روپ میں نظر آئیں گے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یعنی جوان حکمران، جو ہوسکتا ہے کہ دہائیوں تک اقتدار پر برقرار رہے۔