لڑکی کو برہنہ گھمانے کا واقعہ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نوٹس لے لیا
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں لڑکی کو برہنہ کرکے گھمانے اور تربت میں متعدد لاشیں ملنے کے واقعات کا نوٹس لے لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے مذکورہ معاملے پر اجلاس 22 نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا جبکہ اس حوالے سے کمیٹی نے سیکریٹری وزارت انسانی حقوق اور سیکریٹری داخلہ خیبرپختونخوا کو نوٹسز جاری کردیئے۔
کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق اور سیکریٹری داخلہ خیبرپختونخواہ کو طلب کرتے ہوئے ان سے مذکورہ واقعے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
مزید پڑھیں: برہنہ گھمانے کا واقعہ:متاثرہ لڑکی کی والدہ کی عدالت میں درخواست
واضح رہے کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے دربان میں 27 اکتوبر کو ایک لڑکی پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا جبکہ بااثر افراد نے لڑکی کو پورے علاقے میں برہنہ گھمایا بھی تھا۔
جس کے بعد متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا اور اس میں تمام ملزمان کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
تشدد کا شکار لڑکی کے بھائیوں نے مقامی پولیس پر کارروائی میں غفلت برتنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا سے انصاف کی اپیل کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ایس ایچ او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ’لڑکی کو برہنہ کرکے گھمانے کا واقعہ ملک کیلئے دھبہ‘
درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کی بہن کو سجاول اور ان کے ساتھیوں نے پانی کے تالاب سے اس وقت اٹھا لیا تھا جب وہ سہیلیوں کے ساتھ پانی لینے گئی تھیں، جس کے بعد وہ ایک گھر میں چھپ کر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے باہر نکالا اور غیر قانونی طور پر حراست میں بھی رکھا تھا۔
تربت واقعے کا نوٹس
اس کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بلوچستان کے علاقے تربت میں متعدد افراد کے قتل کے معاملے کا نوٹس بھی لے لیا۔
تربت واقعے پر کمیٹی نے سیکریٹری داخلہ بلوچستان اور آئی جی بلوچستان کو نوٹس جاری کئے اور سیکریٹری داخلہ اور آئی جی بلوچستان کو 22 نومبر کے اجلاس میں طلب کرلیا گیا۔
سینیٹ کی مذکورہ کمیٹی نے تربت میں متعدد افراد کے قتل کے معاملے سے متعلق تفیصلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
مزید پڑھیں: سانحہ تربت: مزید 20 افراد کے دہشتگردوں کے قبضے میں ہونے کا انکشاف
خیال رہے کہ 18 نومبر 2017 کو صوبہ بلوچستان کے شہر تربت سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع پہاڑی علاقے تاجبان میں گولیوں سے چھلنی 5 نامعلوم لاشیں برآمد ہوئی تھی۔
اسے قبل ایک اور واقعہ 15 نومبر کو بلوچستان کے علاقے تربت ہی میں واقع بلیدہ گورک میں پیش آیا تھا جہاں 15 افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئیں تھیں جن کے بارے میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مقتولین کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے جس کے بارے میں ایف سی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان 15 لوگوں کو کیچ کے علاقے میں بہت قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر میر حاصل بزنجو نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق تربت میں دہشت گردوں نے بس میں سوار 40 افراد کو اغوا کیا تھا، جن میں سے 20 تاحال ان کے قبضے میں ہیں۔











لائیو ٹی وی