مظاہرین کا تشدد، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی زخمی

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2017

ای میل

پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں مظاہرین کے تشدد سے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف اور ان کے سیکیورٹی انچارج سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

ایم این اے کے ساتھ ان کے سیکیورٹی انچارج بھی زخمی ہوئے — فوٹو : ڈان نیوز
ایم این اے کے ساتھ ان کے سیکیورٹی انچارج بھی زخمی ہوئے — فوٹو : ڈان نیوز

تینوں افراد کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بھی ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد دھرنے پر ہونے والے آپریشن کے خلاف صبح 11 بجے سے بتی چوک پر دھرنا جاری تھا، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی جبکہ تمام دکانیں بھی بند کر دی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اور وفاقی حکومت نے مذہبی جماعت کے کارکنان کی جانب سے دیئے گئے دھرنے ختم اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا جس کے بعد کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں بھی دھرنوں اور مظاہروں کا آغاز ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے جاوید لطیف مظاہرین سے مذاکرات کے لیے شیخوپورہ کے بتی چوک پہنچے، تو مشتعل افراد نے ان پر حملہ کر دیا، جس سے وہ اور ان کے سیکیورٹی انچارج میاں منظور جبکہ مسلم لیگ کے ایک کونسلر زخمی ہوگئے۔

میاں جاوید لطیف کے گارڈز کی جانب سے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، جبکہ مظاہرین پر قابو پانے کے لیے مزید نفری بھی طلب کی گئی۔

وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر مظاہرین کا حملہ

سیالکوٹ کے قریب پسرور میں واقع وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کے گھر پر شام 4 بجے کے قریب تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے حملہ کیا۔

حملہ آوروں کی تعداد مبینہ طور پر 100 سے زائد تھی جبکہ زاہد حامد کے گھر پر ایک درجن سے بھی کم اہلکار تعینات تھے۔

مزید پڑھیں: نیوز چینلز بند، سوشل میڈیا بلاک کرنے کا حکم

مشتعل مظاہرین نے وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی جبکہ پتھراؤ سے سیکیورٹی پر مامور اہلکار بھی زخمی ہوئے، جس کے بعد انہوں نے مزید نفری طلب کرلی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد مظاہرین کو بھی گرفتار کیا جبکہ زاہد حامد کے گھر پر سیکیورٹی مزید بڑھادی گئی۔

چوہدری نثار کے گھر حملہ

راولپنڈی میں مشتعل مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان کے گھر کا گیٹ توڑ دیا اور باغیچہ کو آگ لگادی۔

چوہدری نثار کے گھر پر تعینات گارڈز نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا اور مظاہرین منتشر ہوگئے۔

مشتعل مظاہرن نے چوہدری نثار کے گھر کے قریب فرنیچر کے گودام اور پلازہ کو بھی نذرآتش کردیا۔

خیال رہے کہ زاہد حامد کے گھر پر خاندان کا کوئی بھی فرد موجود نہیں، وفاقی وزیر کا خاندان اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد اور روالپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا گذشتہ 18 روز سے جاری تھا، دھرنا ختم کروانے کے عدالتی حکم پر جب انتظامیہ نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا، تو مشتعل افراد نے ملک کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع کر دیے۔

فیض آباد میں 7 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد اسے معطل کر دیا جبکہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

دوسری جانب پیمرا نے مظاہروں کی براہِ راست کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی جبکہ ملک کے کئی شہروں سے فیس بک اور یوٹیوب کی بندش کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

صحافیوں پر تشدد

راولپنڈی میں مظاہرین نے نجی چینل ’سما ٹی وی‘ کی ’ڈی ایس این جی‘ وین کو آگ لگا دی۔

مشتعل مظاہرین نے چوہدری نثار کے گھر کے باہر چینل کی ڈی ایس این جی وین کو آگ لگائی، جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

کراچی میں مظاہرین نے ایک اور نجی چینل ’جیو نیوز‘ کے صحافی طارق ابوالحسن پر تشدد کیا، جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

کاروباری چینل ’بزنس پلس‘ کے صحافی سید یاسین ہاشمی بھی پولیس اور مظاہرین کے فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے جنہیں ہولی فیملی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

کراچی یونین آف جرنلسٹ (کے یو جے) نے صحافیوں پر تشدد اور ڈی ایس این جی وین نذرآتش کرنے کی مذمت کی۔

کے یو جے کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔