بھارت: والد سمیت 4 افراد کا لڑکی کے ساتھ ’ریپ‘

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2017

ای میل

مظفرنگر: بھارتی ریاست اترپردیش میں خاندان کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادی کرنے کے لیے گھر سے فرار ہونے والی لڑکی کو اپنے ہی خاندان کے افراد نے ’ریپ‘ کا نشانہ بنا ڈالا۔

یہ افسوس ناک واقعہ ضلع مظفر نگر کے چھوٹے سے گاؤں ’دھنیدا‘ میں پیش آیا، تاہم اب ’ریپ‘ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ لڑکی کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے والے افراد میں ان کا والد، بھائی اور 2 چچا شامل ہیں۔

بھارتی نشریاتی ادارے ’ڈی این اے‘ انڈیا نے اپنی خبر میں بتایا کہ پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہونے کے جرم میں اپنی ہی بیٹی کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے والے والد اور بھائی سمیت چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کشال پل سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ملزمان کے خلاف ’ریپ‘ کا مقدمہ درج کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ڈکیتی کے دوران 4 خواتین کا ’گینگ ریپ‘

پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ اپنے ہی خاندان کے مردوں نے انہیں ’ریپ‘ کرنے کے بعد دھمکایا، اورانہیں گھر تک ہی محدود کردیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ ’ریپ‘ کا نشانہ بننے والی لڑکی چند ماہ قبل پسند کی شادی کرنے کے لیے گھر سے فرار ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں ’ریپ‘ کیسز کی شرح کئی ممالک سے زیادہ ہے، صرف 2015 میں ہی ہندوستان بھر میں ’ریپ‘ کے 34 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ درج کیے گئے تھے، جب کہ درج نہ ہوپانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: پولیس افسران نے ریپ کا شکار طالبہ کا ’مذاق‘ بنا ڈالا

بھارتی حکومت کے ڈیٹا کے مطابق 2015 میں ریپ کے 34 ہزار 651 کیسز ریکارڈ کیے گئے، تاہم زیادتی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ اصل اعداد و شمار اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور کئی کیسز بدنامی کے ڈر کی وجہ سے ریکارڈ نہیں ہوتے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں ریاست مدھیا پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں زیادتی کے 4 ہزار 500 کے لگ بھگ کیسز رجسٹر ہوئے جو کسی بھی بھارتی ریاست میں ریپ کے رپورٹ ہونے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔