لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹا جائے اور پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے لیکن بہترین حل یہ ہے کہ ہم متحد رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو عملی اقدار اور آزادی بنائی ہے، اس میں تبدیلی نہ لائی جائے۔

میئر صادق خان کی پاکستان آمد کے بعد عوام اور ذرائع ابلاغ سے ان کی پہلی بات چیت الحمرہ ہال میں ہوئی، جہاں صحافی منیزے جہانگیر نے اس سے گفتگو کی۔

تقریب میں پاکستانی امریکن کاروباری شخصیت شاہد خان کی جانب سے مہمان کے صادق خان کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا، جس کے بعد تقریب کا آغاز برطانوی نژاد پاکستانی شاعر نے اپنے پاکستان سے تعلق کے حوالے سے نظم پڑھی ساتھ ہی اور ’برطانوی نژاد دیسی‘ پر طنز بھی کیا۔

صادق خان نے گفتگو کا آغاز پاکستان اور پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ وہ 18 ماہ قبل جب سے میئر بنے ہیں ان کو یہاں کے لوگوں سے پیار ملا ہے، انہوں نے کہا کہ واہگہ کے راستے لاہور میں داخل ہونا ان کے لیے ایک علامت تھی کیونکہ تقسیم ہند کے وقت ان کا خاندان بھی اسی راستے سے آیا تھا۔

ان سے پوچھا گیا کہ یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ نہیں ہے لیکن انہوں نے پاکستانیوں کو کیسا پایا؟

مزید پڑھیں: لندن کے میئر کی لاہور آمد، شہباز شریف سے ملاقات

میئر لندن نے کہا کہ ان کا خاندان یہاں تھا اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ آئے تھے لیکن انہوں نے یہاں مختلف کردار حاصل کیے، جیسے برطانوی، مسلم، پاکستانی، ایشین، شوہر، والد اور یہ تمام ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے۔

گفتگو کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ لندن دنیا کا ایک بڑا شہر ہے لیکن وہ مکمل نہیں ہے، جب میرے والدین پہلے لندن گئے تھے تو وہاں ریسٹورینٹس کے باہر ’ کوئی آئرش، کوئی کالا، کوئی کتا‘ جیسے نشان استعمال کیے جاتے تھے۔

جب میں بڑا ہوا تو مجھے نام کی وجہ سے نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، لڑائی بھی ہوئی جس سے میں نے اپنا دفاع سیکھا لیکن اب میرے بچے اسی علاقے میں بڑے ہورہے جہاں میں ہوا تھا اور مجھے وہ چیلنجز نظر نہیں آئے جو میں نے دیکھے تھے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دعویٰ کرتے ہوئے فخر ہے کہ میں ’ سب کا میئر‘ ہوں، میں مسجد، گردوارے، چرچ، مندروں میں جاتا ہوں اور یہ قائد اعظم محمد علی جناح کا وژن تھا اور میں یہ سب کرکے ان کی پیروی کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے دورہ کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا کہ وہ برطانیہ اور ان ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 6 دنوں میں 6 شہروں ممبئی، دہلی، امرتسر، لاہور، اسلام آباد اور کراچی دورہ کریں گے، جس کا مقصد اس پیغام کو پہنچانا ہے کہ ’ لندن کھلا ہے‘

صادق خان نے اعتراف کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ اس چیز کو ترغیب دے رہے ہیں کہ امیگریشن کے قوانین میں تبدیلی لائی جائےا ور نیا پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا متعارف کرایا جائے تاکہ برطانیہ آنے والے نئے کاروباری افراد کے لیے آسانی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن کے میئر صادق خان کی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

میئر لندن سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، جس پر انہوں نے سفارتی جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کےلیے عوامی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی تفتیش کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹا جائے اور پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے لیکن بہترین حل یہ ہے کہ ہم متحد رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو عملی اقدار اور آزادی بنائی ہے اس میں تبدیلی نہ لائی جائے۔

صادق خان سے ان کے مخالف زیک گولڈ اسمتھ کی جانب سے نفرت انگیز مہم کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آپ گولڈ اسمتھ کے سابق بہنوئی عمران خان سے ملاقات کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ہم ان پر مختلف چیزوں سے حملہ کرسکتے تھے لیکن جیسے مشال اوباما کہتی ہیں کہ جب وہ نیچے جائیں گے تو آپ اوپر جائیں گے اورہمیں کس طرح آگے اٹھایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ گولڈ اسمتھ نے تمام ہتھیار استعمال کیے لیکن لندن کے عوام نے خوف اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کردیا۔


یہ خبر 07 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی