سپریم کورٹ: عمران خان اہل اور جہانگیر ترین نااہل قرار

اپ ڈیٹ دسمبر 16 2017

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نااہلی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ان کی پٹیشن کو خارج کردیا جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دے دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ معزرت چاہتے ہیں کہ کورٹ روم آنے میں دیر ہوئی اور کہا کہ جو بھی فیصلہ سنایا جائے اسے تحمل سے سنا جائے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں فیصلے سے قبل 250 صفات پر مشتمل دستاویز کو دیکھنا تھا اور اس میں ایک غلطی کے باعث دیر ہوئی۔

مزید پڑھیں: عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوا دیا اور چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق اکاونٹس کی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان پر 2013 کے کاغذاتِ نامزدگی میں نیازی سروسز لمیٹڈ کو ظاہر نہ کرنے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ وہ اس کے اسٹیک ہولڈر نہیں تھے اور انہوں نے تمام متعلقہ دستاویزات پیش کیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بنی گالہ کے اثاثے عمران خان نے اپنے خاندان کے لیے خریدے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دے دیا، ان پر زرعی آمدن، آف شور کمپنیوں، برطانیہ میں جائیداد اور اسٹاک ایکسچینج میں اِن سائڈ ٹریڈنگ سے متعلق الزامات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کئی تاریخی فیصلے جمعے کے دن سنائے گئے

سپریم کورٹ کے بینج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے اور عدالت عظمیٰ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو ان کے خلاف ان سائیڈ ٹریڈنگ سے متعلق کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

حنیف عباسی کی درخواستوں پر فیصلہ سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر 1 میں سنایا گیا یہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سنایا اور اس موقع پر ان کے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی موجود تھے۔

اس موقع پر کمرہ عدالت میں پٹیشنر حنیف عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں طلال چوہدری اور مریم اورنگ زیب سمیت دیگر موجود تھے۔

خیال رہے کہ عمران خان ان دنوں 4 روزہ دورے پر سندھ میں موجود ہیں اس لیے وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے، تاہم جہانگیر ترین بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری اور دیگر پی ٹی آئی رہنما عدالت میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دونوں رہنماؤں کے خلاف نااہلی کیس کا فیصلہ 14 نومبر کو محفوظ کیا تھا، جسے 15 دسمبر 2017 کو 3 بجے سنا دیا گیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کے ’فریقین کے جانب سے پیش کیے گئے دلائل کا ہر طرح سے جائزہ لیں گے، جس کے بعد ایسا فیصلہ سنائیں گے جو سب کو قابل قبول ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھیں: جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ بھی محفوظ

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

الیکشن کمیشن کا نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جہانگیر ترین کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا تحریر فیصلہ موصول ہونے پر جہانگیر ترین کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا، وہ ضمنی الیکشن میں حلقہ این اے 154 سے منتخب ہوئے تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری کیا جائے گا۔

سیکیورٹی کے انتظامات

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا ممکنہ فیصلہ سنائے جانے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے۔

عدالت عظمیٰ کے اندر اور باہر غیر معمولی سیکیورٹی کے انتظام کیے گئے تھے، جن میں احاطہ عدالت میں 900 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جن میں 300 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

کیس کا پس منظر

پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستیں شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کیس دائر کیے جانے کے بعد دائر کی گئی تھیں۔

اس وقت چیف جسٹس نے مئی 2016 میں یہ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کیں تھیں۔

مذکورہ کیس پر سماعت کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ قائم کیا گیا، جس میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے۔

سپریم کورٹ میں سماعت میں عمران خان کی آمدن، رقوم کی منتقلی، لندن فلیٹ کی خریداری پر بحث حاوی رہی جبکہ جہانگیر ترین کی زرعی آمدن، آف شور کمپنی، برطانیہ میں جائیداد اور اسٹاک ایکسچینج میں اِن سائڈ ٹریڈنگ توجہ کا مرکز رہی۔

عمران خان نے بارہا مکمل منی ٹریل دینے کا دعوٰی کیا تاہم حنیف عباسی کے وکلا نے عمران خان پر بار بار موقف بدلنے کا الزام لگایا اور سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دستاویزات فراہم کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا۔

مذکورہ کیس پر وکلا نے 100 گھنٹے سے زائد دلائل اور 73 مقدمات کے حوالے دیئے جبکہ اس دوران درجن بھر ممالک کی اعلٰی عدلیہ کے تقریبا تین درجن فیصلوں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔

58 سماعتوں کے بعد 14 نومبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے دونوں درخواستوں کا فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا۔