دہشتگردوں کو پناہ دینے پر پاکستان کو بہت کچھ کھونا پڑے گا، امریکا

ای میل

امریکی نائب صدر مائک پینس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا لیکن امریکا کے ساتھ شراکت داری پر پاکستان بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ افغان جنگ کے آغاز کے بعد 16 برس میں امریکا کی جانب سے یہ سب سے خطرناک انتباہ ہے۔

نائب صدر نے گزشتہ روز افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور کابل میں افغان رہنماؤں سے ملاقات کی جبکہ بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کیا، اس موقع پر امریکی فوجی کرسمس سے قبل امریکی نائب صدر کو اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔

بگرام ایئربیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے اور میں اب ان کی بات کو دہراتا ہوں کہ پاکستان سرحد پار موجود طالبان کے گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے جبکہ ان گروہوں کو امریکی فورسز اور افغان اتحادیوں کے خلاف لڑائی سے روکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان، امریکا کی مدد کرنے کا پابند ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پینٹاگون نے کانگریس کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے باجود پاکستان کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں یکطرفہ اقدامات اٹھائیں گے۔

رواں ماہ سے قبل امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلر نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے علاقوں پر کنٹرول کھودے گا اگر اس نے حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشتگردوں کے ساتھ روابط نہیں ختم کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا گیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی تمام محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کردیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف نرم گوشہ رکھنے کی تردید بھی کی تھی۔

طالبان پسپا ہونے پر مجبور

دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مائک پینس نے امریکی فوجیوں کی خدمات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے طالبان کو بھاگنے پر مجبور کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ یہاں پر موجود ہر کسی کی جرات کے باعث ہم افغانستان میں آزادی کی اس جنگ میں حقیقی پیش رفت حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈرامائی طور پر امریکی فضائی حملوں میں اضافہ کیا اور افغان ساتھیوں کے ساتھ مل کر طالبان کو محدود کردیا، اس کے علاوہ ہم نے طالبان کو فنڈنگ میں مدد کرنے والے منشیات کے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر کا دورہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کے لیے بنائی گئی نئی حکمت عملی کے چار ماہ بعد سامنے آیا ہے۔

فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ افغانستان میں آپ کا مشن امریکی عوام کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2001 میں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف شروع کی گئی مہم کو حالیہ دنوں میں امریکی عوام کی جانب سے بہت کم توجہ کا مرکز بتایا جارہا ہے۔

مائیک پینس کا حالیہ دورے بھی فوجیوں کی امریکی مشن پر توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کو پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت سے متعلق نئی تشویش

بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ آیا امریکا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے پر غور کرے گا، جس پر مائیک پینس نے کہا کہ یہ فیصلہ کمانڈر ان چیف کا ہوگا جو آنے والے دنوں میں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیورکریٹس نہیں، فوجی جنگ جیتا کرتے ہیں اور ایک چیز جو میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں بطور کمانڈر اینڈ چیف دیکھی ہے وہ یہ کہ انہوں نے جنگ کے میدان میں کمانڈروں کو اصل وقت میں فیصلہ کرنے کے لیے بااختیار بنا دیا ہے۔

دریں اثناء بگرام کے دورے کے بعد انہوں نے کابل کا دورہ کیا اور افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کا فیصلہ ضابطے کے خلاف کیا گیا، باراک اوباما کی طرح ٹرمپ انتظامیہ کو اشرف غنی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں جبکہ وہ اپنے ہم منصب حامد کرزئی کے مقابلے میں وائٹ ہاؤس کو زیادہ قابل اور کم بدعنوان دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم ان کے تین سالہ قومی اتحاد سے حکومت کمزور ہورہی ہے اور انتخابات ملتوی ہورہے ہیں۔