بچوں کی نازیبا ویڈیوز شیئر کرنیوالے گروہ کا رکن گرفتار

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2018

ای میل

لاہور: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرپول کینیڈا کی اطلاع پر بچوں کی نازیبا ویڈیوز شیئر کرنیوالے گروہ کے رکن کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے 60 جی بی ڈیٹا بھی برآمد کرلیا گیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرائم سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد انیس نے ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ ملزم کے بین الاقوامی گروہ میں مختلف ممالک کے لوگ شامل ہیں جو آپس میں پورن فلمیں اور ویڈیوز شیئرز کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: بچوں کی نازیبا ویڈیوز کا معاملہ اور متاثرین کی ’خاموشی‘

انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ اس گروپ میں کتنے لوگ شامل ہیں۔

خالد انیس نے بتایا کہ بچوں کی نازیبا ویڈیو شیئر کرنے والے گروہ کے ملزم کو جھنگ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم تیمور الیکٹریکل انجینئر ہے جس کے لیب ٹاپ اور کمپیوٹر سے نازیبا ڈیٹا بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام نے گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انٹرپول کینیڈا کی اطلاع پر ایف آئی اے حرکت میں آئی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اور آئی پی ایڈریس کے ذریعے تفتیشی ادارے کی ٹیم ملزم تک پہنچی اور اسے جھنگ کے علاقے صدر سے گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرگودھا: بچوں کی غیراخلاقی فلمیں بنانے والا ملزم گرفتار

حکام نے بتایا کہ ملزم تیمور نے دو سال پہلے گروپ کو جوائن کیا تھا جبکہ ملزم تیمور کے مطابق وہ ذہنی تسکین کے لیے یہ کام کرتا تھا اور مزید گروہ کے ممبران سے لنکس بڑھتے گئے۔

ایف آئی اے کے حکام نے بتایا کہ ملزم آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے مغربی ممالک میں ہونے والے بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل کرتا تھا اور انہیں اپنے پاس ڈاؤن لوڈ اور بعد میں اپ لوڈ کرکے شیئر بھی کرواتا تھا۔

حکام نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 18/2018 کو درج کرکے اس کی تفتیش ایک سب انسپکٹر کے سپرد کردی گئی ہے۔

بچوں کے استحصال کی ویڈیو بنانے کا معاملہ

علاوہ ازیں ڈان نیوز کو موصول ہونے والے ایف آئی اے کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ادارے نے ملک میں بچوں کے جنسی استحصال اور اس دوران ویڈیوز بنانے کے معاملے میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایف آئی اے ملک بھر میں موجود نیٹ ورک کو بے نقاب کرے گا جس کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی دو رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ٹیم بچوں کے جنسی استحصال اور ویڈیو بنا کر فروخت کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اس کے علاوہ ملک بھر سے سائبر کرائم کے تمام زونل انچارج اور افسران کو متعلقہ ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔

گزشتہ سال بھی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے سرگودھا سے بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اس کا لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا تھا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے 45 سالہ ملزم سعادت امین نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے نام پر اس نے 25 بچوں کو جھانسہ دے کر اس گھناؤنے کام میں استعمال کیا تھا۔