’اردو اپنا قومی کھیل‘

اپ ڈیٹ 19 فروری 2018

ای میل

اردو ہماری قومی زبان ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پی آئی اے ہماری قومی ایئرلائن اور ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔ قومی ایئرلائن اور قومی کھیل کا تکلف خواہ مخواہ کیا گیا، یہ دونوں خدمات اردو انجام دے تو رہی ہے۔ یہ زبان ہوابازی کے کام بھی آتی ہے اور ملک میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل بھی یہی ہے۔

پی آئی اے کی پورے سال اتنی پروازیں نہیں چلتیں جتنی ایک دن کے دوران اردو میں ہوابازی کرلی جاتی ہے۔ اس معاملے میں ہر شاعر تو شاہد مسعود ہے ہی، سیاست دانوں اور صحافیوں سے لے کر عام آدمی تک سب ہوا میں تیر چلاتے اور ہوائی قلعے بناتے رہتے ہیں۔ سیاستدان اپنے سارے بڑے بڑے دعوے اور وعدے اردو ہی میں کرتے ہیں اور صحافی خاص طور پر اینکر پرسن اپنی ہوائی پیش گوئیوں کے لیے اسی زبان کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی زبان کی مدد سے وہ ہوا بھرنے اور ہواؤں میں اُڑانے کا کام بھی لیتے ہیں۔

پڑھیے: ٹی وی چینلوں پر بننے والی اردو کی درگت کا حل کیا ہے؟

جہاں تک تعلق ہے کھیل ہونے کا تو اردو دراصل ایک قومی کھلونا ہے، جس سے ہر عمر کا بچہ کھیل سکتا ہے اور کھیل رہا ہے۔ یہ اردو سے کھلواڑ ان ڈور گیم بھی ہے اور آؤٹ ڈور گیم بھی۔ گھر میں یہ ’انگلش انگلش‘ کھیلنے کے کام آتی ہے۔ مائیں بچوں کے ساتھ پورا دن یہ کھیل کھیلتی ہیں،’بیٹا! آپ نے ہینڈ واش کیے‘،’دیکھو خالہ آئی ہیں، اوپن دی ڈور۔‘ اب خالہ کیونکہ اردو میں آئی ہیں، اس لیے بچے کو اردو بھی ’خالہ‘ لگتی ہے اور وہ خالہ کے ساتھ اردو سے بھی چڑنے لگتا ہے۔ جہاں اس کھیل میں اردو تو اکھاڑا بنتی ہی ہے وہاں بچہ خود اردو اور انگلش کے درمیان فٹبال بن کے رہ جاتا ہے۔ اردو کے آؤٹ ڈور گیم کے میدان ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا ہیں، جہاں لفظوں کے تلفظ، ہجوں، جملوں کی ساخت، قواعد اور محاوروں سے کُھل کر کھیلا جاتا ہے۔

اس میں کیا شک کہ ہم سب کو اپنی قومی زبان سے پیار ہے اور جس سے پیار ہو اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ بس اسی لیے ہم اردو کو بچا بچا کے رکھتے ہیں۔ گفتگو میں کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ انگریزی الفاظ کا استعمال کیا جائے اور اردو لفظوں کو زبان پر غلطی سے بھی نہ لایا جائے کہ یہ کہیں گِھس نہ جائیں۔ چاہے شادی ایسے دلہا کی ہو جس کی انگریزی غلطی پر ’سوری (”سو رہی“ کے بیٹھے ہوئے واؤ کے ساتھ) مشٹیک ہوگئی‘ اور اظہارِ محبت کے لیے ’آئی لب یو‘ تک محدود ہو، لیکن کارڈ انگریزی ہی میں چھپتا ہے، اردو میں چھپوانے کی ’مشٹیک‘ غلطی سے بھی نہیں ہوتی۔ مہمان بھی اندازے سے سمجھ پاتے ہیں کہ کس کی شادی ہے، کس وقت ہے اور کہاں جانا ہے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے، ہم اپنی قیمتی زبان کو ان چھوٹی موٹی عبارتوں کے لیے کیوں ضایع کریں؟

پڑھیے: اردو زبان کے بارے میں چند غلط تصورات

یہی وجہ ہے کہ نام رکھنے کے معاملے میں بھی ہم اردو کو دور ہی رکھتے ہیں، تاکہ ہماری قیمتی زبان کے بیش قیمت لفظ اور اسم ہر ماجھے گامے کی زبان پر آکر اپنی عظمت نہ کھو بیٹھیں۔ اسی لیے اداروں، دکانوں اور ہوٹلوں کی تختیوں پر لکھی عبارت ہی نہیں ان کے نام بھی گوروں کی بولی سے لیے جاتے ہیں۔ گویا اس طرح ہم اپنی شخصیت پر رنگ گورا کرنے کی کِریم لگا کر گورے ہونے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں، جو سر سفید ہونے تک جاری رہتی ہے، لیکن نتیجے میں منہ کچھ اور ’تاریک‘ ہوجاتا ہے۔

خیر گزری کے بچوں کا نام رکھتے ہوئے مذہب آڑے آجاتا ہے، ورنہ ہمارے ہاں کچھ اس قسم کے نام سُننے کو ملیں، بریڈپٹ گُجر، ٹام کروز آرائیں، ڈونلڈ پھلپوٹو، تھریسامے بَٹ، نپولین جنجوعہ، چوہدری بُش، مولوی مائیکل جیکسن۔ لیکن یہاں بھی اردو لفظوں اور ناموں کو ہم پاس نہیں پھٹکنے دیتے۔

کسی نومولود کا نام رکھتے ہوئے ایسی انفرادیت پسندی دکھائی جاتی ہے جیسے وہ دنیا کا پہلا بچہ ہو اور والدین فخریہ کہہ رہے ہوں ’یہ کر کے دکھاﺅ، ارے یہ یہ، یہ کر کے دکھاؤ۔‘ منفرد ناموں کی کھوج میں عربی پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو کبھی فارسی، روسی، اطالوی، عبرانی اور جرمن کو کھنگالا جاتا ہے۔ آخرکار عربی سے کوئی مشکل ترین لفظ دریافت کرکے نومولود کو موسوم کردیا جاتا ہے، پھر ’غلغلہء اسلام ولد کالے خاں‘، ’متزلزلا زماں ولد بُندو‘ اور ’رجعت قہقری بنت اﷲ دِتّا‘ جیسے نام وجود میں آتے ہیں۔

پڑھیے: اردو ہے جس کا نام

وہ دور لَد گئے جب داغ دہلوی نے کہا تھا، نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے، اب تو اردو زبان نیک پروین بہو کی طرح ایسی آئی ہے کہ سسرال والے کہتے ہیں اس کے ساتھ کچھ بھی کرلو کہاں جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 مہینے سے 15 دن تک کے عرصے میں انگلش سکھانے کے لیے گلی گلی مراکز کُھلے ہیں، لیکن اردو سکھانے کے لیے خاندان کے بڑے منہ تک نہیں کھولتے۔

ہمارے ہاں انگریزی نہ آنا، ڈرائیونگ نہ آنا، جمہوریت پر غصہ نہ آنا، کرکٹ کی سمجھ نہ آنا اور بولی وڈ کے اداکاروں کے نام نہ آنا صرف شرم ناک ہوتا ہے، لیکن اردو، شرم اور وقت پر آنا تو ناک ہی کٹوا دیتا ہے۔

اردو کو آئینی تحفظ حاصل ہے، لیکن آئین کو خود تحفظ حاصل نہیں، چنانچہ اس بارے میں کچھ کہنا لاحاصل ہے۔ آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے، جس کی تشریح ہمارے ہاں کچھ اور کی گئی ہے اور اس تشریح کے مطابق یہ وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔ حکمران، وزراء اور افسران سارے سرکاری جھوٹ اردو میں بولتے ہیں، جھوٹے وعدے اردو میں کرتے ہیں، دعوے اسی زبان میں کرتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بجٹ بھی اردو میں پیش کیا جاتا ہے، یہی سرکاری زبان ہے، تو بھیا اردو بن گئی نہ سرکاری زبان، اب کاہے کی پریشانی!

پڑھیے: میری اردو بہت خراب ہے!

اردو دنیا کی واحد زبان ہے جس کے الفاظ کے معنی و مطلب بتانے، سمجھانے اور متعین کرنے کا فریضہ ماہرین لسانیات، ادیبوں اور شاعروں کو نہیں نبھانا پڑتا، یہ ذمہ داری سیاست دانوں نے اپنے سر لے لی ہے۔ اب سیاستدان بتاتے ہیں کہ ’ٹھوک دو‘ دراصل بوسہ دینے کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ بعض اینکر بھی اس خدمت میں پیش پیش ہیں، جنہوں نے ’دبڑدھوس‘ جیسی نادر اصطلاح متعارف کرائی، اِن دنوں خود اُن کے ساتھ ’دبڑدھوس‘ ہوچکا ہے، اسی لیے بزرگ کہتے ہیں، ’جو کرتا ہے وہ خود ہوتا ہے۔‘

تو صاحب! یہ کچھ ہو رہا ہے اردو کے ساتھ، کچھ ہم اسے پیار سے بچا بچا کے مار رہے ہیں، باقی یہ شرم سے خود ہی مری جارہی ہے۔ رئیس امروہوی نے کہا تھا، ’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘ ہم نے ان کی بات آدھی مانی، یعنی جنازہ تو نکال رہے ہیں لیکن دھوم دھام سے نہیں بڑی خاموشی کے ساتھ، جلد تدفین بھی ہوجائے گی۔