کراچی میں کچھ لوگوں کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ اب ماضی کا قصہ بنتی جا رہی تھی، مگر ایک بڑی تعداد اس سے اتفاق نہیں کرے گی کیوں کہ ’زیادہ خسارے میں‘ قرار دیے جانے والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کبھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

مگر صنعتی اور ایسے علاقے جہاں سے ’کے الیکٹرک‘ کے واجبات کی وصولی بہتر ہے، ان علاقوں کے لوگ اب اکا دکا تکنیکی خرابیوں کے علاوہ بجلی کی تقریباً مسلسل فراہمی کے عادی ہوچلے تھے۔

لیکن یہ سب مارچ کے اختتام تک ختم ہوگیا جب ’کے الیکٹرک‘ کو قدرتی گیس کی فراہمی پر اچانک ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا اور ’کے الیکٹرک‘ اپنے زیادہ تر پلانٹس گیس سے ہی چلاتی ہے۔ یہ تنازعہ گرمی کی لہر کے درمیان کھڑا ہوا جب بجلی کی طلب عروج پر تھی اور ’کے الیکٹرک‘ نے کچھ روز کے لیے کم از کم 120 ملین کیوبک فٹ یومیہ اور گرمیوں کے دوران 190 ملین کیوبک فٹ یومیہ اضافی گیس کی درخواست کی۔

درخواست مسترد کردی گئی اور اچانک پورے شہر بھر میں لوڈشیڈنگ واپس آگئی۔ تب سے لوگوں کے ذہن میں 2000ء کے اواخر کے بُرے دنوں کی یاد تازہ ہوگئی جب بجلی بے انتہا جایا کرتی تھی۔ جس کے بعد سوئی سدرن اور ’کے الیکٹرک‘ کے درمیان عوامی سطح پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ صورتحال اتنی تیزی سے خراب کیوں ہوئی اور اب تک صحیح کیوں نہیں ہوپائی؟

چوں کہ ’کے الیکٹرک‘ عوامی غصے کا نشانہ سب سے پہلے بنی، اس لیے اس نے سوئی سدرن گیس کمپنی پر گیس کی سپلائی گھٹانے کا الزام پہلے عائد کیا کہ جس کی وجہ سے کمپنی اپنے نئے ٹربائنز کو چلانے سے قاصر تھی۔ سوئی سدرن نے جواب دیا کہ ’کے الیکٹرک کے دعوؤں کے برعکس گیس کی سپلائی نہ گھٹائی گئی ہے نہ بڑھائی گئی ہے۔‘

سوئی سدرن نے یہ بھی کہا کہ ’گیس فیلڈز سے کم گیس موصول ہو رہی ہے اور گیس لوڈ مینیجمنٹ پلان کے تحت پہلے گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے گی، اور اس کے بعد ان صارفین کو جن کے ساتھ معاہدے ہیں۔‘ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ ’کے الیکٹرک‘ کے ساتھ ایسا کوئی سپلائی معاہدہ نہیں ہے، مگر اس کے باوجود صرف کراچی کے شہریوں کی وجہ سے اسے معقول مقدار میں گیس فراہم کی جاتی ہے۔‘

یہیں سے پریشانی کا آغاز ہوا۔ وزارتِ پیٹرولیم سے حاصل شدہ فوری معلومات کے مطابق کسی بھی گیس فیلڈ سے سوئی گیس کو فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں تھا اور تمام سپلائی معمول کے مطابق تھی۔ جب سوئی گیس کو نشاندہی کی گئی کہ معاملہ ’کم سپلائی‘ کا نہیں بلکہ گرمیوں کے سبب بجلی کی طلب میں اضافے پر گیس کی سپلائی میں اضافے کی ایک درخواست کو پورا کرنے میں ناکامی تھی، تو گیس کمپنی کے جواب نے تصویر میں ایک نئے عنصر کا اضافہ کیا: کمپنی نے ’کے الیکٹرک‘ سے درخواست پوری کرنے سے قبل واجبات کی مکمل ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

اگلے دن گیس کمپنی کی ایک ٹوئیٹ نے اس عنصر کا اضافہ کیا۔ کمپنی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ ’کے الیکٹرک‘ کو چاہیے کہ وہ ’تمام واجبات ادا کرے اور پھر کمپنی سے گیس سپلائی کے معاہدے پر دستخط کرے۔‘ یعنی صرف 24 گھنٹے کے اندر ہی سوئی سدرن نے اپنا مؤقف مکمل طور پر تبدیل کرلیا۔ پہلے کمپنی نے کہا کہ اسے خود گیس کم مل رہی تھی، اور پھر کہا کہ معاملہ ادائیگی کے تنازعے کا ہے۔

ادائیگیوں کا مسئلہ تھوڑا سا پیچیدہ ہے۔ جب ‘کے الیکٹرک‘ کی نئی انتظامیہ نے معاملات سنبھالے تو سوئی گیس نے ’کے الیکٹرک‘ کو ماضی میں استعمال کی گئی گیس اور تاخیر سے ادائیگی کے جرمانے (جو کمپنی کے مطابق 48 ارب روپے ہے)، سود اور دیگر تمام اخراجات شامل کرکے 78 ارب روپے کا بل تھما دیا۔ درحقیقت تقریباً 5 سال پہلے دونوں کمپنیوں میں معاہدہ ہوا تھا کہ ’کے الیکٹرک‘ گیس کے اخراجات ادا کرے گی جو 10.8 ارب روپے تھے، جبکہ دیگر تمام ماہانہ ادائیگیاں جاری رہیں گی۔ ان تمام سالوں میں ’کے الیکٹرک‘ کو گیس سپلائی نے آج تک کبھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کھڑا کیا کہ شہری زندگی متاثر ہو۔

واجب الادا رقم کے تنازعات توانائی کے شعبے میں ہر جگہ موجود ہیں، مگر شاید ہی کبھی کسی کمپنی کو اجازت ہو کہ وہ دوسرے ادارے کو ایندھن یا بجلی کی فراہمی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے بند کر دے۔ یہاں ماضی سے 2 مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ 2008ء میں اس وقت پیپکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے ادائیگی نہ ہونے کی بناء پر ’کے الیکٹرک‘ کو قومی گرڈ سے بجلی کی فراہمی بند کر دینے کا اچانک فیصلہ کرلیا۔ نتیجہ ہلاکت خیز تھا؛ جیسے ہی شہر کو قومی گرڈ سے بجلی ملنی بند ہوئی تو کراچی کے اپنے پاور پلانٹس رسد میں کمی کی وجہ سے ٹرپ کرگئے اور شہر میں کاروبارِ زندگی فوراً بند ہوگیا۔

دوسری مثال بمشکل ایک سال پرانی ہے جب ’کے الیکٹرک‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو بجلی کی فراہمی معطل کردے گی کیوں کہ واٹر بورڈ سب سے بڑا نادہندہ ادارہ ہے۔

ان دونوں اقدامات کے کچھ ہی عرصے میں ان دونوں ہی ذمہ داران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ بنیادی سہولیات کے شعبے میں آپ ادائیگی پر مجبور کرنے کے لیے سپلائی منقطع نہیں کرسکتے۔ یہ پورے شہر اور اس کے رہائشی، تجارتی اور صنعتی مراکز کو ادائیگی کے صرف ایک تنازعے پر یرغمال بنا لینے جیسا ہے۔ اس طرح کے تنازعات سپلائر اور صارف کے درمیان کاروباری تعلقات توڑ سکتے ہیں مگر 2 کمپنیوں کے درمیان نہیں جو کہ لاکھوں شہریوں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔

سپلائی دیگر وجوہات کی بناء پر بھی منقطع کی جاسکتی ہے جس میں حکومت کی اونچی ترین سطح پر لیے گئے پالیسی فیصلے بھی شامل ہوسکتے ہیں مگر یہاں بھی پورے شہر کو سہولت کی فراہمی صرف ادائیگی کے تنازعے کی وجہ سے بند کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پالیسی فیصلے مخصوص شعبوں یا صارفین کی اقسام کو سپلائی محدود کرنے کے لیے بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، جیسے کہ سی این جی سیکٹر میں دیکھا گیا۔ مگر ایسے فیصلے پورے ادارے کے خلاف کبھی بھی نہیں لیے جاتے۔

دونوں کمپنیوں کے درمیان جو بھی تنازعہ ہو، اسے شہر کے رہائشیوں اور تاجروں کے معمولات متاثر کیے بغیر حل کرنا چاہیے۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اچانک ایسا کیا ہوا کہ گیس کمپنی گیس کی فراہمی محدود کرنے جیسے انتہائی اقدام پر مجبور ہوگئی، مگر بات جو بھی ہو، وزارتِ پیٹرولیم میں کسی کو اس مسئلے کو سلجھانا چاہیے اور واجب الادا رقم ان طریقوں سے حاصل کرنی چاہیے جو کہ سالہا سال سے رائج ہیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 اپریل 2018 کو شائع ہوا۔