اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے چھٹے اور آخری بجٹ سے چند گھنٹوں قبل مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے وفاقی وزیر خزانہ کا حلف اٹھالیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایوانِ صدر میں حلف برداری کی تقریب ہوئی جہاں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکینِ اسمبلی، وفاقی کابینہ کے اراکین اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

صدر ممنون حسین نے مفتاح اسمٰعیل سے وزارت کا حلف لیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تجویز پر مفتاح اسمٰعیل کو وزیرخزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نئے وفاقی وزیر خزانہ کے پاس قومی اسمبلی یا سینیٹ میں سے کوئی نشست نہیں ہے تاہم انہیں وفاقی وزیر کا عہدہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کے تحت دیا گیا ہے۔

اس قانون کے مطابق حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی رکن اسمبلی بننے کے اہل شخص کو 6 ماہ کے لیے وزارت کا عہدہ دے سکتی ہے تاہم 6 ماہ کے بعد انہیں اپنے عہدے کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابات لڑ کر قومی اسمبلی یا سینیٹ کی نشست لینی ہوگی۔

یاد رہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کا سامنا ہے اور اپوزیشن کے دباؤ پر وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور تا حال واپس نہیں آئے ہیں۔

17 نومبر کو اعلیٰ حکومتی سطح پر وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کو ان کے عہدے سے تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

اسحٰق ڈار کی جانب سے 22 نومبر 2017 کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو رخصت کی درخواست دی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔

رخصت منظور ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئیں تھیں، جس کے بعد کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ خزانہ اور اقتصادی امور کا اضافی چارج لے لیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 27 دسمبر کو وفاقی حکومت نے مفتاح اسمٰعیل کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مشیر خزانہ و اقتصادی امور مقرر کردیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 26 دسمبر کو رانا محمد افضل خان نے بھی وزیر مملکت برائے خزانہ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔