اسرائیل کا شام میں ایرانی تنصیبات پر حملہ

10 مئ 2018

Email


شامی حکومت کے زیر انتظام فوجی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تصویر میں اسرائیلی میزائیلوں کو شامی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھ جاسکتا ہے—فوٹو، اے پی
شامی حکومت کے زیر انتظام فوجی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تصویر میں اسرائیلی میزائیلوں کو شامی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھ جاسکتا ہے—فوٹو، اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا-ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ہی اسرائیل نے مبینہ راکٹ حملے کو جواز بنا کر شام میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اس جوہری معاہدے کے خاتمے کا سب سے بڑا حامی تھا اور اس ضمن میں اسرائیل کی جانب سے کئی مرتبہ امریکا سے مذکورہ معاہدی ختم کرنے کے مطالبہ بھی کیا گیا تھا، جبکہ امریکی صدر کے متوقع طور پر دستبرداری کے اعلان سے عالمی سیاست میں کشیدگی کی لہر میں اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ ایویڈور لائبرمین کی جانب سے ایک سیکیورٹی کانفرنس میں بتایا گیا کہ ’ہم نے شام میں تقریباً تمام ایرانی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم انہیں سبق سکھا دیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا شام میں فوجی ہوائی اڈے پر حملہ

ادھر اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی یہ کارروائیاں گزشتہ کچھ سالوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

اس سلسلے میں شام کے سرکاری میڈیا ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں اندھا دھند راکٹ فائر کیے گئے جس نے ملٹری ریڈار کی تنصیبات، ہتھیاروں کے ڈپو اور فوجی بیسز کو نشانہ بنایا۔

شام کے خبر رساں ادارے سانا کے عہدیدار نے اس حوالے سے بتایا کہ شامی فضائیہ کے طیارہ شکن نظام نے درجنوں میزائیل مار گرائے، جبکہ بہت سے میزائل نشانے پر جا لگے۔

مزید پڑھیں: شام میں حملہ:اسرائیل کا ایران سے براہ راست ٹکراؤ شروع ہوگیا،حزب اللہ

اسرائیلی وزیرخارجہ نے شام میں ایران کی طرف راکٹ فائر کرنے کا الزام ایران کی القدس فورس پر لگاتے ہوئے کہا کہ 4 راکٹ اسرائیل کے طیارہ شکن نظام نے روک دیے جبکہ باقی اسرائیلی علاقے میں نہیں گرے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام میں اسرائیلی حملے سے 23 افراد ہلاک ہوئے۔

اس بارے میں سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم نے تصدیق کی کہ شام سے اسرائیل کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر درجنوں راکٹ فائر کیے گئے، تاہم انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ راکٹ کس نے فائر کیے۔

جبکہ اس حوالے سے شام کے ایک فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ راکٹ فائر ہوئے ہیں لیکن یہاں پہل اسرائیل کی جانب سے کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:’مصری حکومت نے اسرائیل کو خفیہ فضائی حملوں کی اجازت دی‘

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے بارہا یہ بیان دیا گیا ہے کہ وہ ایران کی افواج کی شام میں موجودگی برداشت نہیں گرے گا، اور اس سے قبل بھی اسرائیلی حملوں سے شام میں ایرانی شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے تاہم اسرائیل کا اس پر کہنا تھا کہ اس نے حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کو نشانہ بنایا ہے۔

ان واقعات کے تناظر میں امریکا کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ایران کے متوقع ردِعمل کے بارے میں شدید غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اپنی خبر میں بتایا کہ جرمنی کی جانب سے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا گیا، جبکہ روسی ڈپٹی وزیر خارجہ نے مذکورہ صورتحال میں تمام فریقین کو تحمل سے کام لینے کا کہا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان

خیال رہے کہ امریکا کے اعلان کے بعد جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدہ جاری رکھنے کے سلسلےمیں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔