چیف جسٹس کا 'دورکنی بینچ تشکیل دینا غیر روایتی' ہے، جسٹس فائز عیسیٰ

اپ ڈیٹ 12 مئ 2018

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے پشاور میں ہسپتال کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے نوٹس کی سماعت کے لیے بینچ سے خارج کرنے کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے اعتراض پر مبنی اپنا تحریری نوٹ جاری کردیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے پشاور میں ہسپتال کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے کی گئی سماعت کے دوران پیش آنے والی صورت حال کا ذکر کیا ہے۔

سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں دو روز قبل جب سماعت ہورہی تھی تو خیبر پختونخوا (کے پی) کے سیکریٹری صحت عابد مجید سرکاری ہسپتالوں کے حوالے سے رپورٹ پڑھ کر سنا رہے تھے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پوچھنے پر کہا گیا کہ یہ سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے احکامات پر جمع کی گئی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تحریری نوٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے کے پی ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 184 (3) پڑھنے کو کہا کیونکہ وہ وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ آیا یہ آرٹیکل مذکورہ کیس میں متعلقہ مواد فائل سے غائب ہونے پر معاون ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ آرٹیکل عدالت کو بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے نوٹس لینے کی اجازت دیتا ہے اور سپریم کورٹ کو دونوں صورت میں خود کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ معاملے عوامی دلچسپی کا ہے اور اس سے بنیادی حقوق منسلک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایچ آر سی کے ڈائریکٹر اس سے قبل بھی مقدمات میں اسی طرح کے نوٹس تحریر کر چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اے پی ایس سانحہ: چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں روسٹرم پر موجود آئین کا آرٹیکل 184 (3) پڑھنے کو کہا تو محترم چیف جسٹس نے مداخلت کی اور کہا کہ وہ بنچ کی تشکیل نو کررہے ہیں اور اچانک کھڑے ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد شاید بنچ کی تشکیل نو کی گئی، میں شاید اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے اس حوالے سے کوئی حکم نہیں دیا گیا تاہم بعد میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی اور مجھے اس بنچ سے خارج کردیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ان کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ اس بنچ کی تشکیل غیر روایتی اور اس کی کوئی مثال نہیں اور اس طرح کیس کی سماعت کرنا’۔

انھوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ ‘اس طرح نظام کی سالمیت کو مجروح کرنے کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں’۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آخر میں تحریر کیا ہے کہ ‘میں یہ نوٹ لکھنے پر مجبور ہوں تاکہ میرے ضمیر پر بوجھ نہ ہو اور میں بطور جج اپنی ذمہ داری پوری کروں گا’۔