لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سیکریٹری بابر یعقوب فاتح محمد نے کہا ہے کہ ای سی پی عام انتخابات میں پارلیمنٹ کی حمایت کے بغیر بائیومیٹرک نظام کا اطلاق نہیں کرسکتی۔

گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ‘جب پارلیمنٹ انتخابات میں بائیو میٹرک نظام لانے کا فیصلہ کرے گی، ہم آئندہ انتخابات میں ہائی ٹیک نظام کا استعمال کریں گے’۔

یہ بھی پڑھیں: ’الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے بھی باآسانی دھاندلی ممکن‘

بابر یعقوب نے کہا کہ انتخابات میں بائیومیٹرک نظام کا فوری استعمال ممکن نہیں ہے تاہم الیکشن کمیشن کا قانون کہتا ہے کہ بائیومیٹرک نظام کو پہلے ضمی انتخابات میں پائلٹ ٹیسٹ کے ذریعے استعمال کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری ای سی پی نے کہا کہ کمیشن 60 اور 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے لیے بالکل تیار ہے، حکومتی فیصلے پر دارومدار ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت پورے کرے یا اسمبلیاں تحلیل کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ ‘ای سی پی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی’۔

اس سے قبل پنجاب الیکشن کمشنر شریف اللہ نے 37 ضلعی اور سیشن ججز سے حلف لیا جنہیں صوبے میں ضلعی ریٹرنگ افسران مقرر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: انتخابی اصلاحات کس طرح کی؟

اس حوالے سے بتایا گیا کہ کمیشن، انہیں باقاعدہ ٹریننگ دے گا تاکہ وہ انتخابات کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

شریف اللہ نے کہا کہ ‘موجودہ سیاسی منظرنامے کے تناظر میں موجودہ انتخابات انتہائی حساس ہیں اور اسی وجہ سے ریٹرنگ افسران کو عدلیہ سے منتخب کیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام اور پاکستان کے مستقبل کے لیے انتخابات کا صاف و شفاف ہونا بہتر ضروری ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ای سی پی اور ریٹرنگ افسران پر اہم آئینی ذمہ داری عائد ہوئی ہے اور اس ذمہ داری میں انتخابات کے دن امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا بھی ہے۔

یہ پڑھیں: الیکشن کمیشن کا ایک کروڑ 20 لاکھ ووٹرز کا فرق ختم کرنے کیلئے مہم کا آغاز

فاتح محمد نے بتایا کہ کمیشن کی ڈیوٹی ہے کہ وہ انتخابات کے دن سے متعلق اسٹاف کی ترتیب کرے، پہلے مرحلے میں 84 افراد کو ٹریننگ دی جائے گی جو بعدازاں 2 ہزار 644 دیگر افراد کی تربیت کریں گے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ صوبے میں ریٹرنگ افسران کے لیے 3 روزہ ٹریننگ ہوگی اور عید الفظر کے بعد سینئر پریزائڈنگ افسر اور پریزائڈنگ افسر دیگر افراد کی ترتیب کریں گے۔


یہ خبر 17 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی