انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کراچی میں وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن ڈیسک کا افتتاح کردیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ آفس کراچی میں وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن ڈیسک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے قائم کردہ ڈیسک پر خواتین افسران کیسز کو ڈیل کریں گی۔

وومن اینڈ چلڈرن پروٹیکشن ڈیسک کی افتتاحی تقریب میں ڈی آئی جی غربی، ایس ایس پی غربی اور وسطی سمیت دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

اے ڈی خواجہ نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے یہ آپ کا خاندانی معاملہ ہے گھر میں حل کریں‘، خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی ایک لمبی کہانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی اور بیٹوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست کروں گا اس ڈیسک سے متعلق آگاہی عوام کو فراہم کریں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے چائلڈ پروٹیکشن بل کی منظوری دے دی

آئی جی سندھ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا جنسی استحصال ایک سنگین جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی زمانہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری ایسے واقعات کو چھپانے یا ان پر پردہ ڈالنے کے بجائے آگے آکر ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف متعلقہ پولیس کو آگاہ کریں اور باقاعدہ شکایات درج کرائیں تاکہ اس حوالے سے فوری پولیس کارروائی اور انسداد کے لیے اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وومن اینڈ چلڈرن ڈیسک کے قیام کا مقصد ہی خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونیوالے مختلف نوعیت کے واقعات کو ناصرف روکنا بلکہ ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانا بھی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو یہ خوشخبری دینا چاہتا ہوں وومن اینڈ چلڈرن ڈیسک پر کام کرنیوالے اسٹاف کی ماہانہ تنخواہ دگنی ہوگی تاہم اس ڈیسک پر ان ہی ملازمین کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور اہلیت رکھتے ہونگے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں سے متعلق پولیس کی جانب سے درج مقدمات کی تفتیش وومن اینڈ چلڈرن پروٹیکشن ڈیسک پر تعینات خواتین افسران ہی کریں گی، جس کا مقصد خواتین اور بچوں کے خلاف مختلف نوعیت کے جرائم کا ناصرف مؤثر طور پر انسداد بلکہ ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کو جدید اور مؤثر تفتیش کی بدولت مثالی سزاؤں کے عمل کو بھی یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مختلف نمائندگان اور صحافی حضرات سے کہا کہ عام شہریوں میں وومن اینڈ چلڈرن پروٹیکشن ڈیسک کی افادیت اور مسائل کے فوری حل اور کردار کے حوالے باقاعدہ شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں تاکہ مختلف واقعات سے متاثرہ خواتین بچوں کی مدد اور معاونت کے عمل کو مزید تقویت دی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: ’خواتین پر تشدد میں جنوبی پنجاب سرفہرست‘

بعدازاں آئی جی سندھ نے ویسٹ زون میں ضلع وسطی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم اور انٹیگریٹڈ بیلسٹک آئیڈینٹی فیکیشن سسٹم (IBIS) ٹرمینل کا بھی افتتاح کیا اور موقع پر موجود پولیس افسران کو ضروری ہدایات دیں۔

انہوں نے ضلع وسطی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے قیام اور اس حوالے سے کی جانیوالی جملہ کاوشوں کو سراہا اور کراچی پولیس رینج کے دیگر اضلاع کے ایس ایس پیز کو ہدایات جاری کیں کہ ضلع وسطی میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا وزٹ کریں اور اندرون 15 یوم اسی طرز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز متعلقہ اضلاع میں قائم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کو ناصرف یقینی بنائیں بلکہ تعمیلی رپورٹس بھی ارسال کریں۔

بعد ازاں ضلع وسطی پولیس کو علاقے میں جرائم کی روک تھام اور پیٹرولنگ کے لیے بائیکس بھی فراہم کی گئیں۔

اس موقع پر ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بتایا کہ آئی جی سندھ کی کاوش سے وومن اینڈ چلڈرن پروٹیکشن ڈیسک قائم ہوئی، اس ڈیسک کے قیام کے بعد سے 68 شکایات موصول ہوئیں اور 60 شکایات پر کارروائی کی گئی۔

4 جولائی 2017 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چائلڈ پروٹیکشن بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچوں سے مزودری کرانے کے سلسلے کو روکا جاسکے گا۔