انگلش اور دیگر زبانیں کیسے سیکھی جائیں؟

اپ ڈیٹ 04 جون 2018

ای میل

2 ہفتے قبل میں نے ایک مضمون لکھا تھا کہ کس طرح ہم ہمارے بچوں کو جو خراب معیار کی تعلیم دے رہے ہیں، وہ فائدہ مند ملازمتیں ڈھونڈنے کی ان کی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ مضمون میں میں نے یہ بات کہی تھی کہ زیادہ تر طلباء ایک مضمون پڑھ کر اسے سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے، اور ان سے ایک مربوط اور مضبوط دلائل پر مبنی مضمون لکھنے کی توقع کرنا بہت زیادہ ہے۔

مجھے ردِ عمل میں کافی ای میلز موصول ہوئیں جو زیادہ تر نوجوانوں کی تھیں، جن کا کہنا تھا کہ واقعی وہ ان مسائل کا شکار تھے اور انہیں حل کرنا چاہتے تھے۔ میں سیکھنے کے شعبے کا ماہر نہیں ہوں۔ میں نے 2 دہائیوں تک معاشیات پڑھائی ہے۔ میں کچھ تصورات آپ سے شیئر کروں گا جن سے مجھے اور میرے طلباء کو فائدہ ہوا ہے۔ امید ہے کہ یہ آپ کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گے۔

سیکھنا ایک سست رفتار عمل ہے۔ چیزوں میں مہارت حاصل کرنا بھی ایک سست رفتار عمل ہے اور اس میں بہت زیادہ کوشش درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر آپ وسیع پیمانے پر مستقل تبدیلی کے خواہشمند ہیں تو مسائل پر طویل عرصے کے لیے کام کرنے کو تیار ہوجائیں۔ آپ جلد ہی نتائج دیکھنے لگیں گے مگر ان نتائج میں بہتری وقت اور کوشش کے ساتھ ہی آئے گی۔ آہستہ آہستہ وہ عادات آپ کی شخصیت اور آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔

پڑھیے: کیا پاکستان میں بیروزگاری خراب تعلیمی معیار کی وجہ سے ہے؟

2 مختلف مگر ایک دوسرے سے کچھ حد تک منسلک مسائل ہیں جن سے نمٹنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ ایک تو زبان سیکھنے سے متعلق ہے، اس معاملے میں یہ اردو اور انگلش ہے۔ کسی بھی زبان میں لکھنے یا اس میں لکھا گیا مضمون پڑھنے کے لیے اس زبان سے ایک خاص حد تک واقفیت نہایت ضروری ہے۔

دوسرا مسئلہ سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگر آپ کی انگلش کمزور ہے تو آپ کو اسے بہتر بنانا ہوگا۔ باقاعدہ کورس کرنا اس کا سب سے اچھا طریقہ ہے مگر یقینی بنائیں کہ یہ کورسز اچھے معیار کے ہوں۔ اس کے لیے آن لائن کورسز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

اگر کورسز کرنا ممکن نہ ہو تو اپنی مدد آپ کے تحت بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ کسی اچھے اخبار کے ادارتی صفحات روزانہ پڑھنا شروع کریں۔ روز کم از کم 30 سے 45 منٹ اس کام کے لیے مختص کریں۔ یقینی بنائیں کہ آپ کو ہر لفظ سمجھ آئے (ڈکشنری ساتھ رکھیں) اور ہر جملے کے معنیٰ واضح ہوں۔ اگر شروعات میں آپ کی رفتار کم ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ جب آپ کچھ پڑھ چکیں تو اپنے الفاظ میں خلاصہ لکھنے کی کوشش کریں یا پھر کوشش کریں کہ صاف الفاظ میں بتائیں کہ آپ نے جو مضمون پڑھا، اس میں آپ کے مطابق کیا دلیل پیش کی گئی تھی۔

انگلش میں بول چال سننے کی شروعات کریں۔ انگلش فلمیں دیکھنا اس کا ایک طریقہ ہے مگر انگلش نیوز چینلز دیکھنا بھی مددگار ثابت ہوگا۔ مگر یہ بھی ایسے انداز میں کریں جہاں آپ کو بولا گیا ہر لفظ اور ہر جملہ سمجھ میں آئے۔ اگر آپ کے پاس کمپیوٹر میں کوئی آڈیو یا ویڈیو فائل ہے تو ری پلے کرنے سے کافی مدد حاصل ہوگی۔

وہ زبان بولنی شروع کریں جو آپ سیکھنا چاہتے ہیں۔ مشق کرنے سے استعمال میں بہتری آتی ہے، اور آپ کا اعتماد بڑھتا ہے۔ آپ شروع میں غلطیاں کریں گے مگر ہم ایسے ہی تو سیکھتے ہیں۔ بس غلطیاں کرنے کے تصور سے گھبرانا نہیں ہے۔ مگر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔

انگلش میں لکھنا شروع کریں۔ جملے اور چھوٹے مضامین سے ابتداء کریں اور پھر آہستہ آہستہ طویل مضامین کی جانب بڑھیں۔

آپ کو اپنی تحریروں پر نظرِ ثانی کا بھی انتظام کرنا چاہیے خاص طور پر ان لوگوں کی جانب سے جو کہ اس شعبے میں آپ سے بہتر ہیں۔ یہ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح شاعر اپنی شاعری پر اساتذہ سے رائے لیتے ہیں، اس طرح آپ کو اپنے پڑھنے، لکھنے اور بولنے کے ہنر پر بھی رائے لینی ہوگی۔ کبھی کبھی اس کا انتظام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ لوگ جو اس کا انتظام نہیں کر سکتے، انہیں سیکھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ پر اگر رائے ملنا ممکن ہو تو سیکھنے کا عمل تیز تر، منظم اور دستاویزی صورت میں ہو سکتا ہے۔

پڑھیے: اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اچھا طریقہ کیا؟

بھلے ہی زبان سمجھنے کا عمل (comprehension) زبان سیکھنے کے عمل سے مختلف ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ جب آپ کسی زبان سے زیادہ واقفیت حاصل کرتے ہیں تو آپ نے اس واقفیت کے حصول کے لیے جو طریقے اپنائے ہوتے ہیں انہی کے استعمال سے آپ اس زبان میں لکھی گئی تحریریں یا کہی گئی باتیں بھی بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

جب آپ کوئی مضمون پڑھیں یا کوئی فلم دیکھیں تو اس کے مرکزی دلائل کا خلاصہ تحریر کریں۔ یہ خلاصہ صرف آپ کے اپنے الفاظ میں ہی ہونا چاہیے۔ اگر آپ خلاصے سے آگے بڑھ کر کسی ایسے موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے، تو کوشش کریں کہ ایک سے 2 دن تک پڑھی گئی چیز کے بارے میں سوچیں اور پھر کچھ لکیں۔ یہ نہایت اہم ہے۔ آپ کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ لکھنے والوں نے کیا کہنا چاہا ہے۔ یہ تب ہوسکے گا جب آپ پڑھی گئی چیز پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ مگر آپ کو ہر لکھاری سے ایک مخصوص فاصلہ بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ بحیثیت لکھاری آپ کی اپنی آواز دب نہ جائے۔

کسی موضوع پر لکھنے سے قبل ایک سے 2 دن تک سوچنے سے آپ کو (الف) اپنی پڑھی گئی چیز اور آپ کی سوچ کو ترتیب دینے میں مدد ملتی ہے، (ب) دلائل کی تیاری میں مدد ملتی ہے (پ) یہ یقینی ہوجاتا ہے کہ بحیثیت لکھاری آپ کی اپنی آواز ابھر سکے، جو کہ ان لکھاریوں سے مختلف ہو جنہیں آپ نے پڑھا ہے۔

آزاد انداز اور ایک مختلف شخص کے طور پر سوچنے کی اس عادت پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے۔ اگر آپ کی دلیل صرف وہی دلیل ہے جو آپ نے پڑھی ہے، تو وہ آپ کی دلیل نہیں ہے۔ اگر آپ کی دلیل میں وہ نکتہ ہائے نظر شامل نہیں جو اس موضوع پر دوسرے لوگوں نے پیش کیے ہیں، تو آپ کی دلیل آگاہی پر مبنی نہیں، اس لیے دوسروں کی کہی گئی باتیں پڑھیں، سمجھیں، اور انہیں ذہن نشین کرلیں، مگر لکھیں اور بولیں وہی جو آپ سوچتے ہیں۔ اس طرح آپ کی اپنی شناخت جنم لے گی۔

پڑھنے، بولنے، لکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں پیدا کرنے میں وقت اور محنت لگتی ہے مگر اسے آپ اپنے کریئر کے کسی بھی حصے میں حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ اور بھی زیادہ آسان اس وقت ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اسکول جانے کی عمر میں ہو۔ یہ اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب ہم اپنے سوچنے کے طریقوں میں راسخ ہوجاتے ہیں، مگر انسانی ذہن کسی بھی عمر اور مرحلے میں سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے پر صرف تب تک جب تک کہ کوئی شخص محنت کرنے کی لگن رکھتا ہو۔

امید ہے کہ یہ کالم جو کہ کسی بھی معیار سے طویل نہیں ہے، ان لوگوں کے لیے ایک اچھا نقطہءِ آغاز ہوگا جو سیکھنے کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 جون 2018 کو شائع ہوا۔