اسلام آباد: نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت کردی۔

نگراں وزیر اعظم ناصرالملک نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ حکم جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون کو ہدایت کی کہ لاہور ہائی کورٹ کے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف فوری اپیل دائر کی جائے اور اس کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کسی معاملے کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ اپیل کا مقصد انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کا عدالتی فیصلوں پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

قبل ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ اور نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

اسلام آباد میں ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر نذیر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کیمرا اجلاس میں نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں پر عدالتی فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 3 اور 4 جون کو کاغذات نامزدگی وصول نہیں کیے جائیں گے، تاہم ملک میں عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: 8 صوبائی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام ریٹرننگ افسران کو کاغذات نامزدگی کی وصولی سے روک دیا۔

واضح رہے کہ شیڈول کے مطابق 2 سے 6 جون تک تمام حلقوں میں کاغذات نامزدگی وصول کیے جانے تھے۔

اختر نذیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ریٹرننگ افسران کو نیا شیڈول بتایا جائے گا جبکہ الیکشن کے موجودہ شیڈول میں 2 سے 3 دن کی گنجائش موجود ہے۔

الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کے بعد ہنگامی طور پر اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی کا معاملہ زیر غور آیا تھا۔

اس اجلاس کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس تبدیلی کے حوالے سے سابق وزیر ‏قانون زاہد حامد، شیریں مزاری، انوشہ رحمٰن، نوید قمر پیش پیش رہے۔

ذرائع کے مطابق ‏انتخابی اصلاحات کمیٹی الیکشن کمیشن حکام پرسخت تنقید کرتی رہی اور ‏کئی کمیٹی ارکان تعلیمی قابلیت کا خانہ بھی ختم کرانے کے لیے اصرار کرتے رہے جبکہ ‏الیکشن کمیشن کی عدم موجودگی میں نئے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

لاہور اور بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے

یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات 2018 کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نامزدگی فارم کو آئین کی شق 62 اور 63 کے مطابق ترتیب دینے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے لیکن عوامی نمائندوں کی چھان بین آئین کے آرٹیکل62،63 کے تقاضوں کے تحت ہونی چاہیے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر نئے کاغذات نامزدگی میں ان شرائط کو لازم قرار دے اور مکمل چھان بین کے بعد امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے انتخابات کے نامزدگی فارم کو کالعدم قرار دے دیا

عدالت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے سے الیکشن کے عمل میں ہرگز تاخیر نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئیں 8 صوبائی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔

جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو دوبارہ حلقہ بندیاں کرنے کو کہا تھا۔

کالعدم قرار دیئے گئے حلقوں میں پی بی-24، پی بی-25، پی بی-26، پی بی-27، پی بی-28، پی بی-29، پی بی-30 اور پی بی-32 شامل ہیں۔