ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف کے خلاف نیب کے حتمی دلائل مکمل

اپ ڈیٹ 08 جون 2018

ای میل

احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران قومی احتساب ادارے (نیب) نے حتمی دلائل مکمل کردیے۔

حتمی دلائل میں ایڈیشنل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دعویٰ کیا کہ استغاثہ نے ثابت کردیا ہے کہ نواز شریف ہی ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین میں واقع لندن کے چاروں اپارٹمنٹس کے حقیقی مالک ہیں جبکہ انہوں نے یہ جائیدادیں اپنے بچوں کے نام پر حاصل کی تھیں۔

مظفر عباسی نے دلائل پیش کرتے ہوئے نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسین اور حسن نواز کی تقریروں میں سے چند باتیں دہرائیں۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: کیپٹن (ر) صفدر کا اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے سے انکار

نیب استغاثہ کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ان اپارٹمنٹ کو قطری سرمائے سے خریدا گیا اور کہا تھا کہ ان کو قانونی ذریعہ معاش سے خریدا گیا تھا جبکہ شریف خاندان نے کبھی اپنے ذرائع کو سپریم کورٹ یا اس عدالت میں ظاہر نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنا کیس آپ کے سامنے رکھ دیا ہے اور اب ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہوگی۔

استغاثہ نے رابرٹ ویلیم ریڈ لے کی فارنزک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فارنزک ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ آف شور کمپنیوں سے متعلق ٹرسٹ ڈیڈ اصلی نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: ’خفیہ ایجنسی کے ارکان کی جے آئی ٹی میں شمولیت نامناسب تھی‘

یہاں یہ بات واضح رہے کہ پاناما کیس پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا نے جرح کے دوران احتساب عدالت کو بتایا تھا کہ جے آئی ٹی نے رابرٹ ریڈلے کو متعلقہ مواد کی فراہمی کے لیے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید کی خدمات حاصل کی تھیں۔

گواہ رابرٹ ریڈلے سے ملاقات کے حوالے سے مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ وہ خود احتساب عدالت کی اجازت سے برطانیہ گئے تھے۔

وکیل دفاع نے اعتراض اٹھایا تھا کہ مظفر عباسی نے گواہ سے ملاقات کی اور گواہی میں خوردبرد کی کوشش کی تھی تاہم استغاثہ نے احتساب عدالت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ فرانزک ماہر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں عدالتی کارروائی کیسے ہوتی ہے اس لیے انہوں نے گواہی سے قبل رابرٹ ریڈلے سے ملاقات کی تھی۔

مظفر عباسی نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے کہا کہ ’آپ نے بھی مجھ سے بیانات ریکارڈ کرنے میں واجد ضیا کی مدد کرنے کا کہا تھا کہ تاکہ وہ ٹریک سے نہ ہٹ جائیں‘۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: قطری خط سمیت اضافی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظور

وکیل دفاع کی جانب سے پیش کیا گیا موقف جس میں انہوں نے کہا تھا کہ استغاثہ شریف خاندان کا لندن پراپرٹیز کے مالک ہونے کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے خلاف کیس ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کیس بہت سیدھا تھا کہ یہ بے نامی پراپرٹیز ملزمان کی ہیں‘۔

ان کے مطابق ملزمان نے اپنے دفاع میں ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔

دلائل پیش کرنے کے بعد استغاثہ نے عدالت سے وکیل دفاع کو اپنے حتمی دلائل پیش کرنے کی گزارش کی جس کے بعد عدالت ایون فیلڈ ریفرنس کی کارروائی کا فیصلہ سنا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: ‘جے آئی ٹی رپورٹ میں اضافی صفحات سے متعلق معلومات نہیں‘

وکیل دفاع سعد ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی پٹیشن زیر سماعت ہے اس لیے حتمی دلائل پیش نہیں کیے جاسکتے۔

نیب استغاثہ مظر عباسی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر اسٹے آرڈر جاری نہیں کیا ہے۔

استغاثہ کا بیان سن کر سعد ہاشمی چونک اٹھے اور کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر حکم امتناع جاری کیا ہے یا نہیں لیکن نیب استغاثہ جو ہائی کورٹ کی ایک بھی سماعت میں موجود نہیں تھے، انہیں ان احکامات کے حوالے سے کیسے معلوم ہوا جو اب بھی جج کے چیمبر میں ہے اور ان پر دستخط بھی نہیں ہوئے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت کو 11 جون تک کے لیے ملتوی کردیا۔