ڈونلڈ ٹرمپ کا جی7 اجلاس کے بعد ’غیر منصفانہ‘ تجارت ختم کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 10 جون 2018

ای میل

جرمن چانسلر اینجیلا مارکل کے دفتر سے جاری ہونے والی تصویر — فوٹو، ڈان اخبار
جرمن چانسلر اینجیلا مارکل کے دفتر سے جاری ہونے والی تصویر — فوٹو، ڈان اخبار

لامالبی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گروپ آف سیون (جی-7) قیادت کو واضح کیا ہے کہ وہ اس تجارتی سرگرمی کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی کمپنیوں اور ملازمین کو دیگر ممالک سے نکالے جانے کا خطرہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپوٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک امریکی اشیاء کو عالمی منڈی میں منصفانہ رسائی نہیں ملتی تب تک وہ کمپنیوں کو مارکیٹ میں اشیاء بھیجنے نیہں دیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے کینیڈا، یورپی یونین اور میکسیکو سے اسٹیل اور ایلمونیم کی درآمدات کے نرخ کے حوالے سے جی7 پارٹنرز کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین کا جوابی اقدام: امریکی مصنوعات کی درآمد پر محصولات عائد

ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اس سے دہائیوں سے فائدہ اٹھارہا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے جی 7 ممالک کو یہ تجویز پیش کی کہ تجارت میں مشکلات پیدا کرنے والے ٹیرف اور سبسڈیز کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جی 7 ممالک کے درمیان تجارت پر ٹیرف نہیں ہوگا تو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی سبسڈی ہوگی، میں نے یہی تجویز پیش کی، اور میرا خیال ہے کہ لوگ اس تجویز پر غور کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ جی 7 کا اجلاس متنازع نہیں تھا۔

خیال رہے کہ جی 7 کے ایک حکام کی جانب سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ 8 جون کو امریکی صدر کی جی 7 میں اپنے دیگر ہم منصب کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی ممالک کی ایران کو ’امریکا کے بغیر‘ جوہری معاہدے کی یقین دہانی

حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ امریکی صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپی یونین اور کینیڈا کے حکام کے ساتھ امریکی تجارت پر اپنے تحفظات کے حوالے سے جملوں کا غیرمعمولی تبادلہ ہوا تھا۔

فرانسیسی صدارتی دفتر کے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی صدر اور جی 7 حکام کے درمیان الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا، جبکہ یہ رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں کہ امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا، تجارتی نظام بھی امریکا، اسکی معیشت، امریکی مزدوروں اور متوسط طبقے کے لیے بہتر نہیں ہے۔

حکام نے بتایا کہ فرانسیسی صدر نے دھیمے لیکن واضح انداز میں یورپی یونین کا موقف پیش کیا جبکہ اس دوران جاپانی صدر بھی وقفے وقفے سے بات کرتے رہے۔