سپریم کورٹ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اہل قرار دے دیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے 20 مارچ کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 2 ماہ 22 دن بعد سنایا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جو 2 ایک کے تناسب سے سنایا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کیس کے فیصلے کے لئے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

سپریم کوٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سربراہ عوامی مسلم لیگ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لیں سکیں گے۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

بعد ازاں عدالت کی جانب سے 51 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جو جسٹس عظمت سعید شیخ نے تحریر کیا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ 27 صفحات پر مشتمل تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں روپا ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے نکات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، قانون کا اطلاق ہر کیس میں اس کے حقائق کے مطابق کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر علمی بحث کسی اور موقع پر کی جاسکتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فیصلہ تاخیر سے ہونے کی صورت میں آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے 7 سوالات اٹھائے گئے۔

  • کیا کاغذات نامزدگی میں ہرغلط بیانی کا نتیجہ نا اہلی ہے اورغلط بیانی پر نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی یا آئندہ انتخابات تک ہوگی ؟

  • کیا آرٹیکل 225 انتخابی تنازعات میں 184/3 کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

  • کیا 184/3 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل کیا جا سکتا ہے؟

  • آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لا کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے؟

  • عدالتی کارروائی کے دوران غلط بیانی کو نااہلی کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے؟

  • کیا کسی شخص کی انتخابی عذرداری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

  • معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو کیا شواہد فراہمی سے متعلق قوانین کا اطلاق ہوگا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق یہی سوالات اسحٰق خان خاکوانی کیس کے فیصلے میں بھی اٹھائے گئے تھے، انہوں نے لکھا کہ ان سوالات کے جواب کافی عرصے سے نہیں آئے، معاملے کے حتمی حل کے لیے ان سوالوں کے جواب میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیےاور ان سوالات کے ذریعے آئین اور عوامی نمائندگی قوانین کی تشریح ہونی ہے۔

اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ پاناما پیپرز کیس میں قرا دیا گیا تھا کہ نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلریشن ضروری ہے، آرٹیکل 62 ون ایف میں لفظ متعلقہ عدالت تحریر کیا گیا ہے، متعلقہ عدالت میں سپریم کورٹ شامل نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ انتخابی تنازعات کے حوالے سے مختلف عدالتی بینچ نے اپنی مختلف آرا کا اظہار کیا ہے لہٰذا اس معاملے کے جلد حل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانونی بے یقینی سے انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان ہوسکتا ہے، ہمیں اس تاثر کو ختم کرنا چاہیے کہ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک ہوتا ہے۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلزان سوالوں کے جواب دیں اور چیف جسٹس ثاقب نثار ان سوالات پر فل کورٹ تشکیل دیں۔

عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا، شیخ رشید

بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بڑا عاجز، مسکین اور عام قسم کا آدمی ہوں، اللہ نے آج مجھے پھرعزت دی ہے، میں اپنے وکیل رشید اعوان کا شکریہ بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ این اے 60 اور 62 میں آج قلم دوات جیت گئی ہے، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور اپنی زندگی میں کوئی چیز نہیں چھپائی، میری ساری دولت راولپنڈی کی ہے اور میں راولپنڈی کا ہی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: شیخ رشید کی نا اہلی کیلئے درخواست سماعت کے لیے مقرر

شریف برادران پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں آرہا ہوں اور عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ بدمعاشوں، چور لٹیروں، منی لانڈرز کے لیے شیخ رشید سیاسی موت ثابت ہوگا، میں 22 جون کو این اے 60 جبکہ 23 کو این اے 62 میں جلسہ کروں گا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرا قصور کیا تھا، میں ان لوگوں کا بھی مشکور ہوں جو میری سیاسی موت دیکھ رہے تھے، میں ایسے لوگوں کی زندگی اور صحت مانگتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے کیس کے فیصلے پر 3 ماہ میں راولپنڈی میں جتنا جوا کھیلا گیا، میں سی پی اور ڈی سی او کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں کہ وہ تمام غریبوں کے پیسے واپس کردیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قابل احترام ہیں، لیکن ان کے سوالوں کو غلط انداز میں اچھالا گیا۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ’ مخالفین نے جس فیصلے کو میرے لیے سیاسی موت بنانا چاہا وہ خود ان کے لیے سیاسی موت بن گیا ہے، اگر میرے خلاف بھی فیصلہ آتا تو میں اسے بھی قبول کرتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ جو کہہ رہے تھے کہ شیخ رشید احمد اسمبلی میں نہیں ہوگا میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ بہت بڑا ہے، اللہ نے مجھ سے ختم نبوت اور ناموس رسالت کا کام لیا ہے، میری زندگی عوام کے لیے ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حکومت بنے کیونکہ وہ سب سے بہتر نظر آتا ہے۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ شیخ رشید کی نااہلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شکیل اعوان نے درخواست دائر کی تھی۔

شکیل اعوان نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ عام انتخابات 2013 میں شیخ رشید نے اثاثے چھپائے اور کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرتے ہوئے زرعی زمین اور آمدن ظاہر نہیں کی اس لیے وہ ممبر قومی اسمبلی کے لیے اہل نہیں ہیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جبکہ گھر کی بکنگ 4 کروڑ 80 لاکھ سے شروع کی گئی تھی، اس کے علاوہ فتح جنگ کے موضع رامہ میں زمین زیادہ لیکن کاغذات میں کم ظاہر کی گئی ہے، ریکارڈ کے مطابق شیخ رشید کی زمین ایک ہزار 81 کنال ہے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 968 کنال اور13مرلہ ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کا قومی اسمبلی کی نشست سے استعفے کا اعلان

یاد رہے کہ شیخ رشید احمد 2013 کے عام انتخابات میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55 سے شکیل اعوان کو شکست دے کر 7ویں مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے این اے 56 میں 2010 کے ضمنی انتخاب میں شیخ رشید کو شکست دی تھی، جہاں 2008 کے عام انتخابات میں جاوید ہاشمی نے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس سیٹ کو خالی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملتان نشست اپنے پاس رکھی تھی۔