اسلام آباد: قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے گرینڈ حیات ہوٹل کیس احتساب عدالت کو منتقل کرنے کے لیے درخواست دائر کردی۔

اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں گرینڈ حیات کیس احتساب عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں نیب نے بدعنوانی کی تحتیقات شروع کی ہوئی ہیں اور اس کیس میں ملزمان کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ کیس بند کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) کے ڈائریکٹر کیپٹن شعیب کی جانب سے استدعا کی گئی، تاہم چیئرمین نیب نے پہلے ہی اس معاملے کو نیب کے سپرد کرنے کے احکامات دیے تھے۔

مزید پڑھیں: نیب کا 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

خیال رہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے ) نے 2005 میں شاہراہ دستور پر لگژری ہوٹل کے قیام کے لیے بسم اللہ نیاگرا پیراگون (بی این پی) گروپ کو ساڑھے 13ایکڑاراضی99 سال کےلئے لیز پر دی تھی۔

تاہم کمپنی نے ناصرف اراضی کی لیز اور لگژری ہوٹل کے قیام کے سلسلے میں تمام قواعد و ضوابط تبدیل کیے بلکہ لگژری ہوٹل کے قیام کے بجائے 2 ٹاورز میں لگژری اپارٹمنٹس قائم کرکے انہیں فروخت کردیا تھا، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اس معاملے پر گزشتہ برس مارچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں گرینڈ حیات ہوٹل لگژی رومز کے بجائے لگژی اپارٹمنٹ کی تعمیر غیر قانونی قرار دی تھی۔

بعد ازاں مئی 2017 میں ایف آئی اے کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر نصرت اللہ، سابق ممبر فاننس کامران قریشی، سابق رکن ایڈمنسٹریشن شوکت محمد اور سابق رکن انجینئر موئن کاکا کو نامزد کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ سابق ڈائریکٹر ای اسٹیٹ حبیب الرحمٰن گیلانی، سابق پروجیکٹ منیجمنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل اعوان اور بی این پی کے مالک عبدالحفیظ پاشا کو بھی کیس میں نامزد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی وزارتِ داخلہ سے نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

تاہم تحقیقات کے دوران ایف آئی اے اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ تحقیقاتی ٹیم کامران لاشاری، کامران قریشی، حبیب الرحمٰن گیلانی کے خلاف دھوکہ دہی، اختیارات کا غلط استعمال، جعل سازی یا نقالی کے الزام ثابت نہیں کرسکی۔

جس کے بعد ایف آئی اے نے بسم اللہ نیاگرا پیراگون (بی این پی) گروپ کو ساڑھے 13ایکڑاراضی لیز پر دینے کے معاملے کی تحقیقات روک دی تھیں۔

علاوہ ازیں رواں سال مارچ کے دوران نیب کی جانب سے گرینڈ حیات ہوٹل کی تعمیر اور لیز میں بے قاعدگیوں کی تحیقات کا آغاز کردیا تھا۔

اس تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کو نگراں مقرر کیا گیا تھا۔