شہنشاہ غزل مہدی حسن کی یاد

اپ ڈیٹ 13 جون 2018

ای میل

مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012 کو کراچی میں ہوا —۔
مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012 کو کراچی میں ہوا —۔

موسیقی کے آفتاب شہنشاہ غزل مہدی حسن کو اپنے پرستاروں سے بچھڑے 6 سال بیت گئے۔

اٹھارہ جولائی 1927 کو راجستھان میں پیدا ہونے والے مہدی حسن کلاسیکی موسیقی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے 1935 میں آٹھ سال کی عمر میں ایک پروگرام کے ذریعے گلوکاری کا آغاز کیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے، جہاں 1957 میں انہیں کراچی سے ریڈیو پاکستان میں اپنی فنکارانہ صلاحتیں دکھانے کا موقع ملا۔

فلموں میں انہیں 1962 میں ریلیز ہونے والی فلم فرنگی کی شہرہ آفاق غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ سے شہرت ملی، اس ایک گیت نے مہدی حسن کو گلی گلی مشہورکردیا تھا، جس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

مہدی حسن اور محمد علی کی جوڑی کا اشتراک بہت پسند کیا گیا اور کہا جاتا تھا کہ محمد علی کی مقبولیت میں مہدی حسن کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، مگر محمد علی کے ساتھ ساتھ وحید مراد کے لئے بھی مہدی حسن کی آواز کو بہت پسند کیا گیا۔

اسی طرح رنگیلا، شاہد ، درپن اور اعجاز کے لئے گائے گئے گیت انہیں ہر چہرے کے لئے موزوں آواز ثابت کرتے ہیں۔

ان کا گیت 'اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا اتنا مشہور ہوا کہ یہ آج بھی مہدی حسن کے سب سے زیادہ مشہور گانوں میں سرفہرست ہے۔

اسی طرح ایک گیت زندگی میں تو سب ہی پیار کیا کرتے ہیں کو سن کر ہندوستانی گلوکار لتا منگھیشکر نے کہا تھا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں۔

انھوں نے اپنی زندگی میں 25 ہزار سے زائد فلمی وغیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں، ان کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت مشہور تھی کہ جس نو فنکار پر ان کی آواز ڈب ہوتی ہے وہ راتوں رات کامیاب فنکاروں کی فہرست میں آکھڑا ہوتا تھا۔

جیسے فلم گھونگھٹ کے گیت مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے کو سن کر لوگ سنتوش کمار کے دیوانے ہوگئے۔

ماضی کے مشہور ہیرو شاہد کی پہلی فلم آنسو میں مہدی حسن کے گیت 'جان جاں تو جو کہے گاﺅں میں گیت تیرے' نے شاہد کو پہلی فلم سے ہی صف اول کے ہیروز میں لا کھڑا کیا۔

انہیں حکومت کی جانب سے تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغہ حسن کارکردگی جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا، وہ پاکستان میں گائیکی کے شہنشاہ تھے اور آئندہ کئی عشروں تک بھی شاید ان جیسا گلوگار پیدا نہ ہوسکے گا۔

انیس سو نناوے میں سانس کی تکلیف کے باعث شہنشاہ غزل نے گانا ترک کر دیا تھا جس کے بعد وہ 12 برس تک علالت کا شکار رہے۔

شہنشاہ غزل طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تاہم ان کے مقبول ترین گیت اورغزلیں برسوں عظیم فنکار کی یاد دلاتے رہیں گے۔