’گوادر، چاہ بہار بندرگاہوں سے ایران کے ساتھ تجارت کو فروغ ملے گا‘

اپ ڈیٹ 14 جون 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کے درمیان ہم آہنگی اور روابط پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط روابط اور تجارت میں مدد فراہم کریں گے۔

ایرانی قونصل جنرل محمد رفیع کی جانب سے منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ مذہب اور ثقافتی تعلقات کے اشتراک سے دونوں ممالک کے درمیان وقت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

مزید پڑھیں: گوادر بندرگاہ سے متعلق ’غیر معمولی‘ خیالات مسترد

گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران دونوں نے علاقائی امن کے لیے ہمیشہ باہمی تعاون کو فروغ دیا اور گندھے سے گندھا ملا کر ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کی گنجائش موجود ہے۔

اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کے مثبت اقدامات کے باعث تجارتی اور معاشی شعبوں میں دو طرفہ تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہتر تعلقات کے باعث گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چاہ بہار سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا؟

ایرانی قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ تجارت کو بڑھانے میں بلوچستان کا کردار بہت اہم رہا ہے کیونکہ یہاں کا طویل سمندر اور سرحد ایران کے ساتھ ہے جبکہ دونوں ممالک سڑکوں اور ریل کے نظام کے تحت بھی تجارت کر رہے ہیں۔

محمد رفیع کا کہنا تھا کہ زاہدان اور گوادر میں مشترکہ سرحدی تجارت کی کمیٹوں کی ملاقات کافی کامیاب رہی اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔


یہ خبر 14 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں