کوئٹہ : نیشنل پارٹی (این پی) کے صدر سینیٹر حاصل خان بزنجو نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بعض قوتوں کی جانب سے ایک بار پھر حقیقی جمہوری سیاستدانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات 2002 میں ہونے والے عام انتخابات سے بھی بدتر ہوں گے جو ایک فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے زیرِ سایہ منعقد ہوئے تھے۔

تربت میں پارٹی کے الیکشن آفس میں خطاب کرتے ہوئے حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) بھی انہی قوتوں نے قائم کی، لیکن وہ حقیقی سیاسی اور جمہوری قوتوں کو شکست دینے میں ناکام رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچ قوم پرستوں کے درمیان انتخابی تناؤ

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں بی اے پی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی کیوں کہ صوبے کے عوام انہیں مسترد کردیں گے، تاریخ گواہ ہے کہ لوگ اس قسم کی جماعتوں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو افراد ان سیاسی جماعتوں کا حصہ تھے وہ اب سیاسی طور پر یتیم ہیں۔

اس موقع پر بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینیٹر خدا اکرم دشتی، کیچ کے ڈسٹرک چیئرمین فدا حسین دشتی اور نیشنل پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنما بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’انتخابات 2018 پہلے ہی دھاندلی زدہ ہوچکے ہیں‘

مکران میں امن و امان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ 2013 میں انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد نیشنل پارٹی کی حکومت نے صوبے میں قیام امن کی بھرپور کوششیں کیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مختصر مدت میں نہ صرف ہم نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی بلکہ تمام اداروں کو بھی مکمل طور پر فعال کیا۔

حاصل بزنجو کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی کی حکومت نے مکران ڈویژن میں بچوں کو اچھی تعلیم فراہم کی اور بین الاقوامی میعار کی یونیورسٹی بھی تعمیر کی۔

مزید پڑھیں: 'جیپ کا انتخابی نشان خلائی مخلوق کانشان ہے'

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی کی حکومت نے موثر اصلاحات متعارف کروا کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت بی اے پی کے بننے کی ذمہ دار نہیں، تاہم ہمیں معلوم تھا کہ بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت قائم کی جائے گی۔

اس موقع پر سینیٹر خدا اکرم دشتی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی تقریب سے خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ صوبے میں کچھ قوتیں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔


یہ خبر 7 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔